30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کثیرۃ ولا ترد ولا ترام۔ وقد عدالسیوطی جملۃ منھا قال"والمصح منھاثلٰثۃ۔ الاول حدیث الاسود بن سریع وابی ھریرۃ معًا مرفوعًا،اخرجہ احمد وابن راھویہ والبیہقی و صححہ وفیہ واماالذی مات فی الفترۃ فیقول رب ما اتانی لك رسول،فیأخذ مواثیقھم لیطیعنہ، فیرسل الیھم ان ادخلواالنار،فمن دخلھا کانت علیہ بردًا وسلامًا،ومن لم یدخلھاسحب الیہا[1]۔ والثانی حدیث ابی ھریرۃ موقوفًا،ولہ حکم الرفع لان مثلہ لایقال من قبل الرأی۔اخرجہ عبدالرزاق وابن جریروابن ابی حاتم وابن المنذرفی تفاسیر ھم،اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین[2]۔
والثالث حدیث ثوبان مرفوعًا،اخرجہ البزارو الحاکم فی المستدرك وقال صحیح علی شرط الشیخین، واقرہ الذھبی[3]۔الخ |
ہوگا۔اوریہ حدیثیں صحیح بھی ہیں کہ کثیر بھی۔اس قابل نہیں کہ رد کی جائیں یا انہیں رد کرنے کا ارادہ کیاجائے۔ امام سیوطی نے ان میں کچھ حدیثیں شمارکرائی ہیں،فرمایاکہ ان میں صحیح یافتہ تین ہیں۔ اول:اسود بن سریع اورابوہر یرہ دونوں حضرات کی حدیث مرفوع،جس کی تخریج امام احمداورابن راہویہ اوربیہقی نے کی ہے۔اوربیہقی نے اسے صحیح بھی کہا ہے۔اس حدیث میں ہے:لیکن وہ جو فترت میں مرگیا تو عرض کرے گاخداوندا !میرے پاس تیراکوئی رسول نہ آیا۔تو ان سے عہد وپیمان لے گا کہ اب ضرور اس کا حکم مانیں گے۔تو انہیں پیغام بھیجے گا کہ دوزخ میں داخل ہوجاؤ،جو داخل ہوگا اس پرٹھنڈك اور سلامتی ہوجائے گی۔جو نہ داخل ہوگااسے گھسیٹ کرلایا جائے گا۔ دوم:حضرت ابوہریرہ کی حدیث موقوف،یہ بھی مرفوع کے حکم میں ہے کیونکہ ایسی بات رائے سے نہیں کہی جاسکتی۔اس کی تخریج عبدالرازق نے کی ہے اورابن جریروابن ابی حاتم وابن المنذرنے اپنی تفاسیر میں کی ہے،اسکی اسنادصحیح برشرط شیخین ہے۔ سوم:حضرت ثوبان کیحدیث مرفوع،جس کی تخریج بزار نے کی ہے،اورحاکم نے مستدرك میں تخریج کر کے فرمایا کہ صحیح برشرط شیخین ہے،اورذہبی نے اسے مقرر رکھا۔ |
[1] شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ بحوالہ السیوطی المقصد الاول،باب وفاۃ امہ الخ دارالمعرفۃ بیروت ۱/۷۳۔۱۷۲
[2] شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ بحوالہ السیوطی المقصد الاول،باب وفاۃ امہ الخ دارالمعرفۃ بیروت ۱/۷۳۔۱۷۲
[3] شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ بحوالہ السیوطی المقصد الاول،باب وفاۃ امہ الخ دارالمعرفۃ بیروت ۱/۷۳۔۱۷۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع