30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
البعثۃ،واختارہ المحقق ابن الھمام فی التحریر۔ لکن ھذا فی غیر من مات معتقدا للکفر۔فقد صرح النوری والفخر الرازی بان من مات قبل البعثۃ مشرکا فھو فی النار،وعلیہ حمل بعض المالکیۃ ماصح من الاحادیث فی تعذیب اھل الفترۃ [1]الخ۔" |
مابعد بعثت پر محمول کیا،اسی کو محقق ابن الہمام نے تحریر میں اختیارکیالیکن یہ قول جو لوگ کفر کا عقیدہ رکھتے ہوئے مرگئے ان کے علاوہ کے بارے میں ہے۔امام نووی اورفخر الدین رازی نے تصریح فرمائی ہے کہ جو قبل بعثت حالت شرك میں مرگئے جہنم میں ہوں گے۔اسی پر بعض مالکیہ نے تعذیب اہل فترت سے متعلق احادیث صحیحہ کو محمول کیاہے۔(ت) |
جمہور ائمہ ماتریدیہ قدست اسرارھم کے نزدیك اہل فترت کے مشرک۱،معاقب،موحد۲،ناجی،غافلوں۳ میں جس نے مہلت فکروتامل نہ پائی،ناجی،پائی۴،معاقب۔
|
وھو المؤید بما نقل عن امام المذھب رضی الله عنہ من قولہ لاعذر لاحد[2]الخ وحمل البخار یین لا یجری فی قولہ الاٰخر فیما نقل عنہ وانہ لو لم یبعث الله رسولا لو جب علی الخلق معرفتہ بعقولھم لٰکن اولہ المحقق بحمل الوجوب علی العرفی۔ای لکان ینبغی لھم ذلک۔ اقول:ویرد علٰی ظواھر ھذہ الاقوال جمیعااحادیث الامتحان وھی صحیحۃ |
یہی قول تائید یافتہ ہے اس سے جو امام مذہب رضی الله تعالٰی عنہ سے منقول ہے کہ کسی کے لئے اپنے خالق سے جاہل رہنے میں کوئی عذر نہیں الخ اوراہل بخاراکا بعدِ بعثت والوں پر اس قول کو محمول کرنا امام سے منقول اس دوسرے قول میں نہ چل سکے گاکہ اگرالله تعالٰی کوئی رسول مبعوث نہ فرماتا تو بھی مخلوق پر اپنی عقلوں کے ذریعہ خالق کی معرفت واجب ہوتی۔ لیکن محقق ابن الہمام نے اسے وجوب عرفی پر محمول کرکے تاویل کی ہے یعنی ان کے لئے یہی مناسب ہوتا۔اقول: ان تمام اقوال کے ظاہر پر احادیث امتحان سے اعتراض وارد |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع