30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یَفْتَرُوۡنَ عَلَی اللہِ الْکَذِبَ ؕ وَ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْقِلُوۡنَ ﴿۱۰۳﴾"[1]۔الخ، فھذا کماترٰی رجوع الٰی ما قالہ ھٰذاان الامامان من تعذیب من اشرك منھم۔اقول: وفی استدلالہ بالاٰیۃ خفاء ظاھر اذلیست نصًّافی ان المراد بھم من اخترع ذٰلك من اھل الفترۃ،بل الکفار لما تدینوا بتلك الاباطیل سجل علیھم بانھم یفترون علی الله الکذب۔۔۔۔۔وبالجملۃ فمفاد الاٰیۃ ان الکافرین یفترون لا ان المفترین کلھم کافرون،حتی یکون تسجیلاعلٰی کفر اھل الفترۃ۔ |
الله نے مقررنہ کیا بحیرہ(کان چِرا)اورنہ سائبہ۔پھر یہ ارشاد ہے:لیکن جو لوگوں نے کفر کیا وہ الله پرجھوٹ باندھتے ہیں اوران میں اکثر بے عقل ہیں الخ۔تویہ جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو اسی کی طرف رجوع ہے،جو امام نووی وامام رازی نے فرمایا کہ اہل فترت کے مشرکوں پر عذاب ہوگا۔ اقول:(میں کہتاہوں)ہاں علامہ ابی نے آیت مذکورہ سےجو استدلال کیا ہے اس میں کھلا ہوا خفا ہے کیونکہ آیت اس بارے میں نص نہیں ان سے اہل فترت ہی کے(بحیرہ وغیرہ کا اختراع کرنیوالے مراد ہیں،بلکہ کفار نے جب ان باطل چیزوں کو اپنے دین واعتقاد میں داخل کرلیا توان کے بارےمیں یہ حکم ثبت فرمایا کہ وہ الله پر جھوٹ باندھتے ہیں۔حاصل کلام یہ کہ آیت کا مفادیہ ہے کہ کافرین افتراکرتے ہیں،نہ یہ کہ سارے افترا کرنے والے کافر ہیں کہ اہل فترت کے فکر کی تصریح ہو۔(ت) |
ردالمحتار میں یہی قول ائمہ بخاراکی طرف نسبت کیا:
|
علی خلاف ماقدمنا عن القاری والطحطاوی وبحر العلوم رحمھم الله تعالٰی،حیث قال"نعم البخاریّون من الماتریدیۃ وافقوا الاشاعرۃ،وحملواقول الامام، لاعذرلاحدفی الجھل بخالقہ،علٰی مابعد |
اس کے برخلاف جو پہلے ہم نے مولانا علی قاری،طحطاوی اور بحرالعلوم رحمہم الله تعالٰی سے نقل کیا،علامہ شامی نے اس طرح فرمایاکہ ہاں ماتریدیہ میں سے ائمہ بخارا اشاعرہ کے موافق ہوئے انہوں نے امام اعظم کے قول"اپنے خالق سے جاہل رہنے میں کسی کے لئے کوئی عذر نہیں۔"کو |
[1] المواھب اللدنیۃ المقصد الاول قضیۃ نجاۃ والدیہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم المکتب الاسلامی بیروت ۱/۱۸۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع