30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کمال الدین ابن الہمام قدس سرہ نے اسی کو مختار رکھا۔ شرح فقہ اکبر میں ہے:
|
قال ائمۃ البخاری عندنا لایجب ایمان ولایحرم کفر قبل البعثت کقول الاشاعرۃ[1]۔ |
ائمہ بخاری نے اشاعرہ کی طرح فرمایا:ہمارے نزدیك قبل بعثت وجوب ایمان اورحرمت کفر دونوں نہیں۔(ت) |
فواتح الرحموت میں ہے:
|
عندالاشعریۃ والشیخ ابن الھمام لایؤاخذون ولو اتوا بالشرك والعیاذبالله تعالٰی[2]۔ |
اشعریہ اورشیخ ابن الہمام کے نزدیك ان سے مواخذہ نہیں اگرچہ مرتکب شرك ہوں،والعیاذبالله تعالٰی۔(ت) |
حاشیہ طحطاویہ علی الدر المختار میں ہے:
|
اھل الفترۃ ناجون ولو غیروا وبدلواعلی ماعلیہ الاشاعرۃ وبعض المحققین من الماتریدیہ ونقل الکمال فی التحریر عن ابن عبدالدولۃ انہ المختار لقولہ تعالٰی: "وَمَاکُنَّا مُعَذِّبِیۡنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوۡلًا ﴿۱۵﴾"وما فی الفقہ الاکبر من ان والدیہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ماتاعلی الکفرفمدسوس علی الامام[3] الخ۔ |
اہل فترت ناجی ہیں اگرچہ تغیروتبدیل کے مرتکب ہوں۔ اس پر اشاعرہ اوربعض محققین ماترید یہ ہیں۔کمال ابن ہمام تحریر میں ابن عبدالدولہ سے ناقل ہیں کہ یہی مختار ہے کیونکہ ارشاد باری تعالٰی ہے:ہم عذاب فرمانے والے نہیں جب تك کہ کوئی رسول نہ بھیج لیں۔۔۔۔۔۔۔اورفقہ اکبر میں جو ہے کہ حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے والدین نے حالت کفر میں انتقال کیا تویہ مصنف فقہ اکبر امام اعظم پردسیسہ کاری ہے(ت) |
اس قول پر توظاہر کہ اہل فترت کو تازمان فترت کافرنہ کہاجائے گا کہ وہ ناجی ہیں،اوکافر ناجی نہیں تو شکل ثانی نے صاف نتیجہ دیا کہ وہ کافر نہیں۔
|
وعلٰی ھذا استدل بہ السید العلامۃ |
اسی بنیاد پر اس سے سید علامہ طحطاوی نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع