30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وفقد فیھا من یعرف الشرائع ویبلغ الدعوۃ علٰی وجھھا الانفرایسیرا من احبار اھل الکتاب مفرقین فی اقطارالارض کالشام وغیرہا واذاکان النساء الیوم مع فشو الاسلام شرقًاوغربًالایدرین غالب احکام الشریعۃ لعدم مخالطتہن الفقہاء،فما ظنك بزمان الجاھلیۃ والفترۃ الذی رجالہ لایعرفون ذٰلك فضلاعن نسائہ،ولذالما بعث صلی الله تعالٰی علیہ وسلم تعجب اھل مکۃ وقالواأبعث الله بشرارسولا، وقالوالوشاء ربنالانزل ملٰئکۃ،ربما کانوا یظنون ان ابراھیم علیہ السلام بعث بما ھم علیہ فانھم لم یجدوامن یبلغھم شریعتہ علٰی وجھھا لدثورھا وفقد من یعرفھا،اذکان بینھم وبینہ ازید من ثلثۃ اٰلاف سنۃ،قالہ فی مسالك الحنفاء والدرج المنیفۃ اھ باختصار[1]۔ |
احکام شریعت جاننے والے اورصحیح طور سے دعوت کی تبلیغ کرنے والے ناپید ہیں،صرف چند علماء اہل کتاب ہیں جو اطراف زمین شام وغیرہ میں منتشرہیں۔۔۔۔۔اور آج جبکہ اسلام شرق وغرب میں پھیل چکا ہے عورتوں کا یہ حال ہے کہ اکثر احکام شرع سے بے خبر رہتی ہیں کیونکہ علماء سے ان کا ربط اوروابستگی نہیں۔پھر عہد جاہلیت اورزمانہ فترت کی عورتوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جبکہ عورتیں در کنارمر دبھی ان سب سے نآشنا ہوتے تھے،اسی لئے تو جب رسول خدا صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو اہل مکہ کو تعجب ہوا،بولے:کیا الله نے کسی انسان کو رسول بناکر مبعوث کیا ہے ؟ اوربولے:اگر ہمارا رب چاہتاتوفرشتے اتارتا۔ وہ تو یہاں تك سمجھا کرتے تھے کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں ان ہی باتوں کو لے کر حضرت ابراہیم علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے، اس غلط خیال کی یہی وجہ تھی کہ شریعت ابراہیمی کو صحیح طور سے کوئی پہنچانے والا ہی انکو نہ ملا،کیونکہ اس کے نشانات مٹ گئے تھےاوراس کے جاننے والے بھی ناپید ہوچکے تھے،اس لئے کہ ان اہل مکہ اورحضرت ابراہیم علیہ السلام کے درمیان تین ہزار سال سے زیادہ کا عرصہ تھا۔یہ مسالك الحنفاء اور الدرج المنیفہ میں فرمایا گیاہے اھ باختصار(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع