30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ذوالفضل المبین(یہ الله تعالٰی کا فضل ہے جسے چاہے عطافرمائے وہ نمایاں فضل والا ہے۔ت)
اب رہ گئے صرف چند برس جو روز پیدائش سے بالکل ناسمجھی کے ہوتے ہیں جن میں بچہ نہ کچھ ادراك رکھتاہے،نہ سمجھ سکتا ہے۔ظاہر ہے کہ اس عمر میں حقیقۃً تو کوئی بچہ کافر نہیں کہاجاسکتاکہ صدق مشتق قیام مبدء کو مستلزم۔کفر تکذیب ہے، اور تکذیب بے ادراك وتمیز نامتصور عــــــہ بلکہ اس وقت تك ہر بچے کا دین فطری اسلام ہے کما نطقت بہ صحاح الاحادیث (جیسا کہ صحیح احادیث اس پر ناطق ہیں۔ت)
ہاں جس کے والدین کافرہوں اس پر ان کی تبعیت کا حکم کیا جاتاہے جبکہ تبعیت متصوربھی ہو ورنہ نہیں،جیسے وہ بچہ جسے دارالاسلام میں اسیر کرلائیں اوراس کے کافرماں باپ دارالحرب میں رہیں،کہ بوجہ اختلافِ دار تبعیت ابوین منقطع ہوگئی،اب بہ تبیعت دار اسے مسلم کہاجائیگا۔
|
فی جنائز الدر"صبی سبی مع احد ابویہ لایصلی علیہ لانہ تبع لہٗ ولو سبی بدونہ فمسلم تبعًاللدار او للسابی [1]اھ ملخّصا۔" |
درمختارکتاب الجنائز میں ہے:کوئی بچہ اپنےحربی والدین میں سےکسی ایك کے ساتھ(دارالحرب سے)گرفتارکر کے(دار الاسلام میں)لایاگیا(اورمرگیا)تو اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی کیونکہ وہ(کافر حربی کے)تابع ہے۔ہاں اگرتنہا گرفتارہوتو دارالاسلام یاگرفتارکرنے والے کے تابع ہونے کے باعث مسلم ہے اھ ملخصًا۔(ت) |
عــــــہ:نتیجہ یہ نکلا کہ کفر بے ادراك وتمیز غیر متصورہے۔لہذا ناسمجھ بچہ کفرسے خالی ہوگا۔جب کفر اس کے ساتھ قائم نہیں تواس پر کافر کا اطلاق بھی درست نہیں کیونکہ کافر،کفرسے مشتق ہے اور کسی پر مشتق صادق ہونے کے لئے مصدر سے اس کا متصف ہونا لازم ہے جیسے لفظ عالم کسی پر صادق آنے کے لئے علم سے اس کا متصف ہونا لازم ہے۔لہذا بچہ جب مبدأ(کفر)سے خالی ٹھہراتو اس پر مشتق(کافر)کا اطلاق بھی نہیں ہوسکتا۱۲محمد احمد مصباحی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع