30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
للاستروشنی انہ قبل البلوغ تبع لابویہ فی الدین مالم یصف الاسلام اھ قال:فافادان التبعیۃ لا تنقطع الابالبلوغ اوبالاسلام بنفسہ وبہ صرح فی البحر عــــــہ والمنح من باب الجنائزاھ ۔[1] |
للاستروشنٰی سے نقل ہے:بچہ قبل بلوغ دین میں اپنے والدین کا تابع ہے جب کہ خود مسلمان نہ ہوا ہو،شامی نہ کہا: افادہ فرمایا کہ یہ تبیعت بالغ ہونے یا خود اسلام لانے ہی سے ختم ہوتی ہے،اسی کی تصریح بحرالرائق اورمنح الغفار باب الجنائز میں بھی ہے اھ(ت) |
تو بعد بعثت تو اس خیال شنیع کی زنہار گنجائش نہیں بلکہ اس سے پیشتر بھی کہ جب قریش مبتلائے قحط ہوئے تھے حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ابوطالب پرتخفیف عیال کے لئے امیر المومنین علی کرم الله تعالٰی وجہہ کو اپنی بارگاہ ایمان پناہ میں لے آئے تھے کما ذکرہ ابن اسحٰق فی سیرتہ[2] (جیسا کہ اس کو ابن اسحٰق نے اپنی سیرت میں ذکر کیا۔ت)
حضرت مولٰی نے حضور مولی الکل سید الرسل صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے کنارِ اقدس میں پرورش پائی،حضو رکی گود میں ہوش سنبھالا،آنکھ کھلتے ہی محمد رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا جمال جہاں آراء دیکھا،حضور ہی کی باتیں سنیں،عادتیں سیکھیں،صلی الله تعالٰی علیہ وعلیہ بارك وسلم۔تو جب سے اس جناب عرفان مآب کو ہوش آیا قطعًایقینًارب عزوجل کو ایك ہی جانا،ایك ہی مانا۔ہر گزہرگزبتوں کی نجاست سے اس کا دامن پاك کبھی آلودہ نہ ہوا۔اسی لئے لقب کریم "کرم الله تعالٰی وجہہ "ملا۔ذٰلك فضل الله یؤتیہ من یشاء
|
عــــــہ:ولفظہ:ولاتزول التبعیۃ الی البلوغ،نعم تزول التبعیۃ اذا اعتقد دینا غیردین ابویہ اذا عقل الادیان فحینئذصارمستقلًا [3]۔ |
ولفظہ:تبعیت بلوغ تك ختم نہیں ہوتی،ہاں اس وقت تبعیت ختم ہوجاتی ہے جب ادیان کی سمجھ رکھ کر اپنے ماں باپ کے دین کے علاوہ کسی دین کا معتقد ہوجائے اب وہ(تابع نہ رہا)خو دمستقل ہو گیا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع