30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حکم اسلام میں مستقل بالذات ہے پھر کسی کی تبعیت سے اس پرحکم دیگر حلال نہیں۔
|
فی المواھب : کان سن علی رضی الله تعالٰی عنہ اذذاك عشر سنین فیما حکاہ الطبری[1] اھ قال الزرقانی:وھو قول ابن اسحٰق واقتصر المصنف علیہ لقول الحافظ انہ ارجح الاقوال[2]۔ وروی ابن سفٰین باسناد صحیح عن عروۃ قال اسلم علی وھو ابن ثمان سنین وصدربہٖ فی العیون الخ[3]۔ وفی ردالمحتار:قولہ وسنّہٗ سبع وقیل ثمان وھو الصحیح،واخرجہ البخاری فی تاریخہ عن عروۃ۔ وقیل عشر اخرجہ الحاکم فی المستدرک۔ وقیل خمسۃ عشر وھو مردود وتمام ذٰلك مبسوط فی الفتح [4]اھ
وفی نکاحہٖ عن احکام الصغار |
مواہب اللدنیہ میں ہے :اس وقت حضرت علی رضی الله تعالٰی عنہ کی عمر دس سال تھی، جیسا کہ طبری نے ذکر کیا ہے اھ۔ زرقانی نے فرمایا:یہی ابن اسحٰق کا بھی قول ہے،مصنف نے صرف اسی قول کو اس لئے ذکر کیا ہے کہ حافظ ابن حجر نے فرمایا ہے کہ سب سے راجح قول یہی ہے۔(ت) اورابن سفٰین نے بسند صحیح حضرت عروہ سے روایت کی ہے کہ حضرت علی آٹھ برس کی عمر میں اسلام لائے۔عیون الاثر (لابن سید الناس)میں اسی قول کو پہلے ذکر کیا۔(ت) ردالمحتار میں ہے:قولہ ان کی عمر سات سال تھی اورکہا گیا کہ آٹھ سال تھی۔یہی صحیح ہے،اسی کو امام بخاری نے اپنی تاریخ میں حضرت عروہ سے روایت کیا۔اورکہا گیا کہ دس سال تھی،اسے حاکم نے مستدرك میں روایت کیا۔۔۔۔اورکہا گیا کہ پندرہ سال تھی،یہ قول مردود ونامقبول ہے۔پوری تفصیل فتح القدیر میں ہے۔اھ(ت) ردالمحتارکتاب النکاح میں احکام الصغار |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع