30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف بلا دلیل شرعی کسی قول یافعل کو منسوب کرنا جمہورکے نزدیك حرام اور بعض کے نزدیك کفر ہے ۔ پس روح مقدس حضرت غوث اعظم پرآپکا سوارہوکر عرش پر پہنچنے کی نسبت فعل اور آپ کافرمانا کہ "میرے بعد نبی ہوتا تو پیران پیر ہوتے"قول کی نسبت بلادلیل ۔ پس سخت معصیت وحرام ہے ۔
اورچونکہ منقولین اور ان امور کے اصرارکرتے اور اس کومستحسن سمجھتے ہیں۔پس اصرارعلی المعصیۃ قریب کفر اوراس کا استحسان صریح کفرہے ۔ ایسے لوگوں کے ایمان میں کلام اوراشتباہ معلوم ہوتاہے،بلکہ درپردہ اس قصہ میں حضرت غوث اعظم کو فضیلت دینالازم آتاہے حضرت سرورکائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر کہ آپ تو وہاں نہ پہنچ سکے اور حضرت غوث اعظم پہنچ گئے اوران کے ذریعے سے آپ کی رسائی ہوئی، نعوذباللہ منہ۔
قطع نظر اس سے سدرۃ المنتہٰی کو اس لئے سدرۃ المنتہٰی کہتے ہیں کہ وہ منتہٰی عروج مخلوقات کا ہے ۔پس جس کا عروج اس سے اوپر بالدلیل ہو، مستثنٰی ہے۔دوسرے کے عروج کا دعوٰی رجم بالغیب جس کی مذمت قرآن مجید میں منصوص ہے ۔ اسی طرح یہ اعتقاد کہ زنبیل چھین لی، مخلاف نص قرآنی منجرالی کفر ہے ۔ ایسے ہی حضرت عائشہ کا دودھ پلانا، اس کی بھی کچھ اصل نہیں ۔ اول تو حضرت عائشہ کے دودھ ہی نہ تھا، دوسرے روح منہ اورلب اورپیٹ سے پاك ہے۔یہ چیزیں خواص اجسام سے ہیں۔پھر دودھ پینے کے کیا معنی۔ اورحضرت ابوبکر سے کسی بھی صحابی کو افضل سمجھنا خلاف اجماع امت ہے نہ کہ ایك ولی کوکہ سخت معصیت و بدعت ومخالف سنن مشہور ہ کے ہے۔اوریہ قول کہ قدمی علٰی رقاب اولیاء"خود حضرت غوث صاحب سے ثقات نے نقل فرمایا ہے ،آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف دروغ ہے۔
![]()
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع