30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امام خاتمۃ المحدثین جلال الملۃ والدین سیوطی قدس سرہ الشریف نے "مناھل الصفاء فی تخریج احادیث الشفاء "میں اس روایت کی نسبت کہ امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے حضو رپُرنور صلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علیہ کے وصال اقدس کے بعد کلام طویل میں حضور کو ہرجملہ پر بکلمہ "بابی انت وامی یارسول اللہ"(یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیك وسلم !میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ت)نداکرکے فضائل جلیلہ وخصائص جمیلہ بیان کئے،تحریر فرمایا:
|
لم اجدہ فی شیئ من کتب الاثرلکن صاحب اقتباس الانوار وابن الحاج فی مدخلہ ذکراہ فی ضمن حدیث طویل وکفٰی بذلك سندا لمثلہ فانہ لیس ممایتعلق بالاحکام[1]۔ |
یعنی میں نے یہ روایت کسی کتابِ حدیث میں نہ پائی مگر صاحب اقتباس الانوار اورامام ابن الحاج نے اپنی مدخل میں اسے ایك حدیث طویل کے ضمن میں ذکر کیا اورایسی روایت کو اسی قدر سند کفایت کرتی ہے کہ انہیں کچھ باب احکام سے تعلق نہیں انتہٰی۔ |
علامہ شہاب الدین خفاجی مصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے نسیم الریاض[2]شرح شفاء قاضی عیاض میں نقل کیا اور مقرررکھا۔
بالجملہ روح مقد س کا شب معراج کوحاضر ہونا اورحضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا حضرت غوثیت کی گردن مبارك پر قدم اکرم رکھ کر براق یا عرش پر جلوہ فرمانا،اورسرکارابدقرارسے فرزند ارجمند کو اس خدمت کے صلہ میں یہ انعام عظیم عطا ہونا____ان میں کوئی امر نہ عقلًا اورشرعًا مہجور اورکلماتِ مشائخ میں مسطور وماثور،کتبِ حدیث میں ذکر معدوم،نہ کہ عدم مذکور،نہ روایات مشائخ اس طریقہ سند ظاہری میں محصور،اورقدرت قادر وسیع وموفور،اورقدر قادری کی بلندی مشہور پھر ردوانکارکیا مقتضائے ادب وشعور۔
اب یہ رہا کہ اس حدیث میں کہ براق برق رفتار زمین سے لپٹ گیا۔اوراس روایت میں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم گردنِ حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ پر قدم رکھ کر زیب پشتِ براق ہوئے،بظاہر تنافی ہے۔
اقول: اصلًا منافات نہیں،بلکہ جب اسی روایت میں مذکور کہ براق فرط فرحت سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع