30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ومسمارہ کالانجم الظواھر،ولم یأخذ ہ السکون والتمکین لیرکب علیہ النبی الامین،فقال لہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم،لم لم تسکن یابراق حتی ارکب علٰی ظھرک،فقال روحی فداءً لتراب نعلك یارسول اللہ اتمنی ان تعاھدنی ان لاترکب یوم القٰیمۃ علٰی غیر حین دخولك الجنۃ،فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم یکون لك ماتمنیت،فقال البراق التمس ان تضرب یدك المبارکۃ علٰی رقبتی لیکون علامۃ لی یوم القٰیمۃ،فضرب النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یدہ علٰی رقبۃ البراق،ففرح البراق فرحا حتی لم یسع جسدہ روحہ ونمٰی اربعین ذراعامن فرحہ وتوقف فی رکوبہ لحظۃ لحکمۃ خفیۃ ازلیۃ،فظھرت روح الغوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ وقال یا سیدی ضع قدمك علٰی رقبتی وارکب،فوضع النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قدمہ علٰی رقبتہ ورکب،فقال قدمی علٰی رقبتك وقدمك علٰی رقبۃ کل اولیاء اللہ تعالٰی[1] انتہٰی۔ |
اوراس کی کیلیں جیسے روشن تارے۔حضور پُرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سواری کے لئے اسے قراروسکون نہ ہوا،سیدِ عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس سے سبب پوچھا:بولا:میری جان حضور کی خاك نعل پر قربان،میری آرزو یہ ہے کہ حضور مجھ سے وعدہ فرمالیں کہ روز قیامت مجھی پر سوارہوکر جنت میں تشریف لے جائیں۔حضور معلّٰی صلوات اللہ تعالٰی و سلامہ علیہ نے فرمایا:ایسا ہی ہوگا۔براق نے عرض کی:میں چاہتا ہوں حضور میری گردن پر دست مبارك لگادیں کہ وہ روز قیامت میرے لیے علامت ہو۔حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے قبول فرمالیا۔دست اقدس لگتے ہی براق کو وہ فرحت وشادمانی ہوئی کہ روح اس مقدار جسم میں نہ سمائی اورطرب سے پھول کر چالیس ہاتھ اونچا ہوگیا۔حضورپُرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو ایك حکمت نہانی ازلی کے باعث ایك لحظہ سواری میں توقف ہوا کہ حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی روح مطہر نے حاضر ہوکر عرض کی: اے میرے آقا ! حضور اپنا قدم پاك میری گردن پر رکھ کر سوار ہوں۔سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی گردن مبارك پر قدم اقدس رکھ کر سوارہوئے اورارشاد فرمایا:"میرا قدم تیری گردن پر اور تیرا قدم تمام اولیاء اللہ کی گردنوں پر۔" |
[1] تفریح الخاطر فی مناقب الشیخ عبدالقادرالمنقبۃ الاولی سنی دارالاشاعت علویہ رضویہ فیصل آباد ص۲۵،۲۴
نوٹ:زیر نظرنسخہ حضرت مولانا ابوالمنصورمحمد صادق قادری فاضل جامعہ رضویہ فیصل آبادکے ترجمہ کے ساتھ شائع ہوا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع