30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خیرالورٰی نے دی اسے تسکیں کہا کہ ہاں
خوش خوش وہ سوئے مسجداقصٰی ہوا رواں
صاحب"تحفہ قادریہ"لکھتے ہیں کہ براق خوشی سے پھولا نہ سمایا اوراتنا بڑا اوراونچا ہوگیا کہ صاحب معراج کا ہاتھ زین تك اورپاؤں رکاب تك نہ پہنچا۔ارباب معرفت کے نزدیك اس معاملہ میں عمدہ ترحکمت یہ ہے کہ جس طرح آج کی رات محبوب اپنا دولت وصال سے فرح(خوشحال)ہوتاہے اسی طرح محبوب کا محبوب بھی نعمت قرب خاص اور دولت اختصاص اورولایت مطلق اورغوثیت برحق اورقطبیت اصطفاء اورمحبوبیت مجدوعلاسے آج مالا مال ہی کردیاجائے۔
چنانچہ صاحب "منازل اثنا عشریہ" "تحفہ قادریہ سے لکھتاہے کہ اس وقت سیدی ومولائی مرشدی وملجائی،قطب الاکرم،غوث الاعظم،غیاث الدارین وغوث الثقلین،قرۃ العین مصطفوی نوردیدۂ مرتضوی،حسنی حسینی سروحدیقہ مدنی،نورالحقیقت والیقین حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی روح پاك نے حاضرہوکر گردن نیاز صاحب لولاك کے قدم سراپا اعجاز کے نیچے رکھ دی اوراس طرح عرض کیا: ؎(بیت)
برسرودیدہ ام بنہ اے مہ نازنین قد بودبسر نوشت من فیض قدم ازیں قدم
(اے نازنین میرے سر اورآنکھوں پرقدم رکھئے تاکہ اس کی برکت سے میری تقدیر پر فیضان قدم ہو۔ت)
خواجہ عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم گردن غوث الاعظم پر قدم رکھ کر براق پر سوار ہوئے اوراس روح پاك سے استفسار فرمایا کہ تو کون ہے؟عرض کیا:میں آپ کے فرزندان ذریات طیبات سے ہوں اگر آج نعمت سے کچھ منزل بخشئے گا توآپ کے دین کو زندہ کروں گا۔فرمایا:تو محی الدین ہے اورجس طرح میرا قدم تیری گردن پر ہے کل تیرا قدم کُل اولیاء کی گردن پر ہوگا۔
بیت قصیدہ غوثیہ:
وکل ولی لہ قدم وانی علٰی قدم النبی بدرالکمال[1]
(ہرولی میرے قدم بقدم ہے اورمیں حضورسید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پرہوں جو آسمان کمال کے بدرکامل ہیں۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع