30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
|
قدم کے سایہ میں داخل ہوں گے۔اللھم لك الحمد صل علی محمد وابنہ وذریتہ۔ |
(۱۱)پھر فرمایا:
|
وحکی امام الشافعیۃ فی زمنہ ابوسعید عبدالله بن ابی عصرون قال دخلت بغدادفی طلب العلم فوافقت ابن السقاورافقتہ فی طلب العلم بالنظامیۃ،وکنا نزور الصالحین وکان ببغداد رجل یقال لہ الغوث[1]۔ (الٰی اٰخر الحدیث المذکور) |
"امام ابوسعید عبدالله بن ابی عصرون نے کہ اپنے زمانہ میں شافعیہ کے امام تھے ذکر فرمایا کہ میں بغداد مقد س میں طلب علم کے لئے گیا ابن السقااورمیں مدرسہ نظامیہ میں شریك درس تھے اوراس وقت بغداد میں ایك شخص کو غوث کہتے تھے(وہی پوری حدیث کہ نمبر ۵ میں گزری،ان غوث کا ہمارے حضور رضی الله تعالٰی عنہ کو بشارت دینا کہ آپ برسر منبر مجمع میں فرمائیں گے "میرا یہ پاؤں ہر ولی الله کی گردن پر "اورتمام اولیائے عصر آپ کے قدم پاك کی تعظیم کےلئے اپنی گردنیں خم کریں گے،اورپھر ایسا ہی واقع ہونا،حضورکا یہ ارشاد فرمانا اور تمام اولیائے عالم کا اقرارکرنا کہ بےشك حضور کا قدم ہم سب کی گردن پر ہے) |
آخر میں ابن حجر نے فرمایا:
|
وھٰذہ الحکایۃ التی کادت ان تتواتر فی المعنی لکثرۃ ناقلھا وعدالتھم[2]۔ |
یعنی یہ حکایت قریب تواتر ہے کہ اس کے ناقلین بکثرت ثقہ عادل ہیں۔ |
فتاوٰی حدیثیہ نے ابن السقا کی بدانجامی میں یہ اورزائد کیا کہ جب وہ بدبخت کہ بہت بڑا عالم جیّداورعلوم شرعیہ میں اپنے اکثراہل زمانہ پرفائق اور حافظ قرآن اورعلم مناظرہ میں کمال سربرآوردہ تھاجس سے جس علم میں مناظرہ کرتا اسے بند کردیتا،ایسا شخص جب شان غوث میں گستاخی کی شامت سے معاذالله معاذالله نصرانی ہوگیا بادشاہ نصارٰی نے اسے بیٹی تو دے دی مگر جب بیمارپڑا اسے بازار میں پھنکوادیا بھیك مانگتااورکوئی نہ دیتا،ایك شخص کہ اسے پہچانتا تھا گزرا اس سے پوچھا تو توحافظ تھا اب بھی قرآن کریم میں سے کچھ یاد ہے۔کہا سب محو ہوگیا صرف ایك آیت یاد رہ گئی ہے۔
|
" رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوْکَانُوۡا مُسْلِمِیۡنَ ﴿۲﴾"[3] |
کتنی تمنائیں کریں گے وہ جنہوں نے کفر اختیار کیا کہ کسی طرح مسلمان ہوتے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع