30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عبدالقادرلاثانی لہ فی عصرنا ھذا رضی الله تعالٰی عنہ[1]۔ |
وقت میں سید عبدالقادر کا کوئی ثانی نہیں رضی الله تعالٰی عنہ۔ |
(۸) امام ابن حجر مکی شافعی متوفی ۹۷۴ھ اپنے فتاوٰی حدیثیہ میں فرماتے ہیں:
|
انھم قد یؤمرون تعریفا لجاھل اوشکرا وتحدثا بنعمۃ الله تعالٰی کما وقع الشیخ عبدالقادر رضی الله تعالٰی عنہ انہ بینما ھو بمجلس وعظہ واذا ھو یقول قدمی ھٰذہٖ علٰی رقبۃ کل ولی الله تعالٰی فاجابہ فی تلك الساعۃ اولیاء الدنیا قال جماعۃ بل واولیاء الجن جمیعھم وطأطئوارءوسھم وخضعوالہ واعترفوا بما قالہ الارجل باصبھان فابٰی فسلب حالہ[2]۔ |
کبھی اولیاء کو کلمات بلند کہنے کا حکم دیاجاتاہے کہ جو ان کے مقامات عالیہ سے ناواقف ہے اسے اطلاع ہویا شکر الہٰی اوراس کی نعمت کا اظہار کرنے کے لئے جیسا کہ حضور سیدنا غوث اعظم رضی الله تعالٰی عنہ کے لئے ہوا کہ انہوں نے اپنی مجلس وعظ میں دفعۃً فرمایا کہ میرا یہ پاؤں ہر ولی الله کی گردن پر، فورًا تمام دنیا کے اولیاء نے قبول کیا(اورایك جماعت کی روایت ہے کہ جملہ اولیاء جن نے بھی)اورسب نے اپنے سرجھکادئے اورسرکارغوثیت کے حضور جھك گئے اوران کے اس ارشاد کا اقرار کیا مگر اصفہان میں ایك شخص منکر ہوا فورًا اس کا حال سلب ہوگیا۔ |
(۹)پھر فرمایا:
|
وممن طأطأرأسہ ابوالنجیب۱ السھروردی وقال علٰی رأسی واحمد۲ الرفاعی قال علی رقبتی وحمیدمنھم وسئل فقال الشیخ عبدالقادر یقول کذا وکذا،وابو مدین۳ فی المغرب وانا منھم اللھم انی اشھدك واشھدملٰئکتك |
حضور کے ارشاد پر جنہوں نے اپنے سرجھکائے ان میں سے (سلسلہ عالیہ سہروردیہ کے پیران پیر)حضرت سید عبدالقاہر ابوالنجیب سہروردی رضی الله تعالٰی عنہ ہیں انہوں نے اپنا سر مبارك جھکادیا اور کہا(گردن کیسی)میرے سر پر میرے سر پر۔اوران میں سے حضرت سید احمد کبیر رفاعی رضی الله تعالٰی عنہ ہیں انہوں نے کہا میری گردن پر،اورکہا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع