30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۵)اسی میں ہے:
|
وعن عبدالله بن علی بن عصر ون التمیمی الشافعی قال دخلت وانا شاب الٰی بغدادفی طلب العلم وکان ابن السقایومئذ رفیقی فی الاشتغال بالنظامیۃ وکنا نتعبد ونزور الصالحین وکان رجل ببغدادیقال لہ الغوث،وکان یقال عنہ انہ یظھر اذا شاء وخفی اذا شاء فقصدت انا وابن السقا والشیخ عبدالقادرالجیلانی وھو شاب یومئذالٰی زیارتہ فقال ابن السقاونحن فی الطریق الیوم اسألہ عن مسئلۃ لایدری لہا جوابا، فقلت وانا اسئلہ[1](نزھۃ الخاطروالفاترفی ترجمۃ سید الشریف عبدالقادر(قلمی نسخہ) ص۳۰)عن مسئلۃ فانظر ماذایقول فیھا وقال سیدی الشیخ عبد القادر قدس سرہ الباھر معاذا لله ان اسألہ شیئا،وانا بین یہ اذًا انظر برکات رویتہ فلما دخلنا علیہ لم نرہ فی مکانہ فمکثنا ساعۃ فاذا ھوجالس فنظر الی ابن السقا مغضباوقال لہ ویلك یا ابن السقا تسألنی عن مسئلۃ لم أردلہا جوابا،ھی کذا وجوابھا کذا،انی لاری نار الکفر تلھب فیک۔ثم نظرالی وقال |
امام عبدالله بن علی بن عصرون تمیمی شافعی سے روایت ہے میں جوانی میں طلب علم کے لئے بغداد گیا اس زمانے میں ابن السقا مدرسہ نظامیہ میں میرے ساتھ پڑھا کرتاتھا،ہم عبادت اورصالحین کی زیارت کرتے تھے،بغداد میں ایك صاحب کو غوث کہتے،اور ان کی یہ کرامت مشہور تھی کہ جب چاہیں ظاہر ہوں جب چاہیں نظروں سے چھپ جائیں،ایك دن میں اور ابن السقااوراپنی نوعمری کی حالت میں حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ان غوث کی زیارت کوگئے،راستے میں ابن السقا نے کہا آج ان سے وہ مسئلہ پوچھوں گاجس کا جواب انہیں نہ آئے گا۔میں نے کہا میں بھی ایك مسئلہ پوچھوں گا دیکھوں کیا جواب دیتے ہیں،حضرت شیخ عبدالقادر قدس سرہ الاعلی نے فرمایا معاذالله کہ میں ان کے سامنے ان سے کچھ پوچھوں میں تو انکے دیدار کی برکتوں کا نظارہ کروں گا۔جب ہم ان غوث کے یہاں حاضر ہوئے ان کو اپنی جگہ نہ دیکھا تھوڑی دیر میں دیکھا تشریف فرما ہیں ابن السقا کی طرف نگاہ غضب کی اورفرمایا: تیری خرابی اے ابن السقا! تو مجھ سے وہ مسئلہ پوچھے گا جس کا مجھے جواب نہ آئے تیرا مسئلہ یہ ہے اوراس کا جواب یہ ہے،بے شك میں کفرکی آگ تجھ میں بھڑکتی دیکھ رہا ہوں۔ پھر میری طرف نظر کی اورفرمایا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع