30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کتاب مستطاب بہجۃ الاسرار شریف سے آگ ہوتو ان سے لاگ کی تو کوئی وجہ نہیں یہ بالاتفاق اجلہ اکابر علماء ہیں۔
دوسرے یہ کہ دونوں صاحب اکابر مکہ معظمہ سے ہیں،تو اس افتراء کا جواب ہوگا جو مخالف نے اہل عرب پر کیا حالانکہ غالبًا تاریخ الحرمین وغیرہ میں ے،اورحاضری حرمین طیبین سے مشرف ہونےو الا جانتاہے کہ اہل حرمین طیبین بعدحضور پر نور سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اٹھتے بیٹھتے حضور سیدنا غوث اعظم رضی الله تعالٰی عنہ کا ذکر کرتے ہیں اورحضور کے برابر کسی کا نام نہیں لیتے۔ان حضرات کی بھی گیارہ ہی عبارات نقل کریں۔:
(۱)علامہ علی قاری حنفی مکی متوفی ۱۰۱۴ھ کتاب نزہۃ الخاطر الفاتر فی ترجمۃ سیدی الشریف عبدالقادر میں فرماتے ہیں:
|
لقد بلغنی عن بعض الاکابر ان الامام الحسن ابن سیدنا علی رضی الله تعالٰی عنہمالما ترك الخلافۃ لما فیھا من الفتنۃ والآفۃ عوضہ الله سبحٰنہ وتعالٰی القطبیۃ الکبرٰی فیہ وفی نسلہ وکان رضی الله تعالٰی عنہ القطب الاکبر سیدنا السید الشیخ عبدالقادر ھو القطب الاوسط والمھدی خاتمۃ الاقطاب[1]۔ |
بیشك مجھے اکابر سے پہنچا کہ سیدنا امام حسن مجتبٰی رضی الله تعالٰی عنہ نے جب بخیال فتنہ وبلایہ خلافت ترك فرمائی الله عزوجل نے اس کے بدلے ان میں اورانکی اولاد امجاد میں غوثیت عظمٰی کا مرتبہ رکھا۔پہلے قطب اکبر خود حضور سید امام حسن ہوئے اوراوسط میں صرف حضور سیدنا سید عبدالقادر اور آخر میں حضرت امام مہدی ہوں گے رضی الله تعالٰی عنہم اجمعین۔ |
(۲)اسی میں ہے:
|
من مشائخہ حمادالدباس رضی الله تعالٰی عنہ روی ان یوما کان سید نا عبدالقادر عندہ فی رباطہ ولما غاب من حضرتہ قال ان ھذا الاعجمی الشریف قدمًا یکون علٰی رقاب اولیاء الله یصیر مامورا من عند مولاہ |
حضرت حماد دباس حضور سیدنا غوث اعظم کے مشائخ سےہیں رضی الله تعالٰی عنہم اجمعین ایك روز انہوں نے سرکار غوثیت کی غیبت میں فرمایا،ان جو ان سید کا قدم تمام اولیاء کی گردن پر ہو گا انہیں الله عزوجل حکم دے گا کہ فرمائیں میرا یہ پاؤں ہر ولی الله |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع