30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من بغداد الی ام عبیدۃ لازورہ،فلما قدمت علیہ اذا ھو الشیخ الذی رأیتہ فی جانب الشیخ عبدالقادررضی الله تعالٰی عنہ فی ذٰلك الوقت لم تجددرؤیتہ عندی زیادۃ معرفۃ بہ فقال لی یاخضر الم تکفك الاولٰی[1]۔ حدیث یازدہم:(قال جمعنا الله تعالٰی وایاہ یوم الحشر تحت لواء الحضرۃ الغوثیۃ)اخبرنا ابوالقاسم محمد بن عبادۃ الانصاری الحلبی قال سمعت الشیخ العارف ابااسحٰق ابراھیم بن محمود البعلبکی المقری قال سمعت شیخنا الامام ابا عبد الله محمد البطائحی،قال انحدرت فی حیاۃ سید الشیخ محی الدین عبدالقادر رضی الله تعالٰی عنہ الٰی ام عبیدۃ، واقمت برواق الشیخ احمد رضی ا لله تعالٰی عنہ ایامًا فقا ل لی الشیخ احمد یومًا اذکر لی شیئامن مناقب الشیخ عبدالقادر وصفاتہ فذکرت لہ شیئا منھا، فجاء رجل فی اثناء حدیثی فقال لی مہ لاتذکر عندنا مناقب غیر مناقب ھذا،اواشارالی الشیخ احمد فنظر |
کو دیکھے جو تمام اولیاء کے سردار ہیں وہ میرے دیکھنے کی تمنا میں تو انہیں کی رعیت میں سے ہوں۔یہ فرماکر میری نظر سے غائب ہوگئے پھر حضور سرکار غوثیت رضی الله تعالٰی عنہ کے وصال اقدس کے بعد بغداد شریف سے حضرت سید ی احمد رفاعی کی زیارت کو ام عبیدہ گیا انہیں دیکھا تو وہی شیخ تھے جن کو میں نے اس دن حضرت شیخ عبدالقادر رضی الله تعالٰی عنہ کے پہلو میں دیکھا تھا۔ اس وقت کے دیکھنے نے کوئی اور زیادہ ان کی شناخت مجھے نہ دی۔ حضرت رفاعی نے فرمایا:اے خضر !کیا پہلی تمہیں کافی نہ تھی! مصنف نے کہا(الله تعالٰی ہمیں اوراسے یوم محشر کو غوث اعظم کے جھنڈے کے نیچے جمع فرمائے)کہ ہم کو ابوالقاسم محمد بن عبادہ انصاری حلبی نے خبر دی کہ میں نے شیخ عارف بالله ابواسحٰق ابراہیم بن محمود بعلبکی مقری کو فرماتے سنا،کہا میں نے اپنے مرشد امام ابوعبدالله بطائحی کو سنا کہ فرماتے تھے:میں حضور سرکارغوثیت رضی الله تعالٰی عنہ کے زمانے میں ام عبیدہ گیا اورحضرت سید ی احمد رفاعی رضی الله تعالٰی عنہ کی خانقاہ میں چند روز مقیم رہا ایك روز حضرت رفاعی نے مجھ سے فرمایا ہمیں حضرت شیخ عبدالقادر کے کچھ مناقب واوصاف سناؤ،میں نے کچھ مناقب شریف ان کے سامنے بیان کئے میرے اثنائے بیان میں ایك شخص آیا اور اس نے مجھ سے کہا کیا ہے اورحضرت سید رفاعی کی طرف اشارہ کر کے کہا ہمارے سامنے ان کے سوا کسی کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع