30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سید احمد رفاعی رضی الله تعالٰی عنہ اس وقت ام عبیدہ میں خوردسال تھے حضر ت کو گیارہواں عــــــہ سال تھا،ممکن کہ اس بار حضور سرکارغوثیت نے یہ اشعار بارگہ عرش جاہ میں عرض کئے اورظہوردست اقدس وبوسہ مصافحہ سےمشرف ہوئے ہوں۔
جب حضرت سیدرفاعی رضی الله تعالٰی عنہ جوا ن ہوئے اورحج کو حاضرہوئے باتباع سرکار غوثیت انہوں نے بھی وہ اشعار عرض کئےاورسرکار کرم کے اس کرم سے مشر ف ہوئے ہوں،بہر حال اس پر وہ فقرۂ تراشیدہ کہ اس وقت حضور قطب العالمین غوث العارفین رضی الله تعالٰی عنہ نےحضرت رفیع رفاعی کے ہاتھ پر معاذ الله بیعت فرمائی کذب وافتراء خالص ودروغ بیفروغ ہے اور الله واحد قہارجھوٹ کو دشمن رکھتا ہے نہ کہ ایسا جھوٹ جس سے زمین آسمان ہل جائیں " قُلْ ہَاتُوۡا بُرْہٰنَکُمْ اِنۡ کُنۡتُمْ صٰدِقِیۡنَ﴿۱۱۱﴾ "[1] لاؤ اپنی دلیل اگر سچے ہو،"فَاِذْ لَمْ یَاۡتُوۡا بِالشُّہَدَآءِ فَاُولٰٓئِکَ عِنۡدَ اللہِ ہُمُ الْکٰذِبُوۡنَ ﴿۱۳﴾"[2] پھر جب وہ گواہان عادل نہ لاسکے تو جو ایسا دعوٰی کریں الله کے نزدیك وہی جھوٹے ہیں، "وَقَدْخَابَ مَنِ افْتَرٰی ﴿۶۱﴾ "[3]خاب وخاسراہوا جس نے افتراء باندھا۔حضرت رفیع ورفاعی کی قطبیت سے کسے انکار ہے،حضور سیدنا غوث اعظم رضی الله تعالٰی عنہ کے وصال اقدس کے بعد حضر تسیدی علی بن ہیتی رضی الله تعالٰی عنہ قطب ہوئے،اورسرکار غوثیت کی عطا سے حضرت خلیل صرصری اپنی موت سے سات دن پہلے مرتبۂ قطبیت پر فائز ہوئے۔حضرت علی بن ہیتی کا وصال وصال اقدس سرکار غوثیت سے تین سال بعد ۵۶۴ھ میں ہے،پھر حضرت سید رفاعی قطب ہوئے
عــــــہ:ابن خلکا کی روایت میں چند مہینے ہی کے تھے زیادہ سے زیادہ،یا ابھی پیدا بھی نہ ہوئے تھے۔
|
حیث قال احمد بن ابی الحسن المعروف بابن الرفاعی توفی یوم الخمیس الثانی والعشرین من جمادی الاولٰی سنۃ ثمان وسبعین وخسمائۃ بام عبیدۃ وھو فی عشر السبعین رحمۃ الله تعالٰی[4]۔ |
اس نے کہا کہ احمد ابن ابوالحسن جو کہ ابن رفاعی کے نام سے مشہور ہیں،کا وصال ۲۲جمادی الاولٰی ۵۷۸ھ بروزجمعرات ام عبیدہ کے مقام پر ہوا،چنانچہ آپ ستر کی دہائی میں ہوئے رحمہ الله تعالٰی۔ (ت) |
مگر بروایت بہجۃ الاسرار عنقریب آتی ہے اس پر ۵۰۹ھ میں سات آٹھ برس کے ہونگے انتہا درجہ دس۱۰ سال کے۔والله تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع