30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الشیئ اذاعرف شروطہ وذكر مطلقًاینصرف الیہا كقول الله تعالٰی اقم الصلٰوۃ ای بشروطھا [1]اھ۔ واذاعرفت ھذا فلئن فرضنا فرض باطل ان الفقہاء اذا اطلقوا القرب ارادوبہ اقصٰی مایكون من القرب لم یكن فیہ الا ما یسخن عین السفیہ فانہ لایراد الا اقصٰی قرب سائغ شرعا۔وقد عرف من الشریعۃ المطھرۃ كراھۃ الاذان فی المسجد فمنتہی قرب المؤذن علٰی حدودالمسجد ثم فی الحد ایضا استماع و اقرب مواضعہ من المنبرماكان علٰی محاذاتہ لانا اذا خرجنا من المنبر خطوطًا الٰی اسفل المسجد كان الخط الذاھب علی استقامۃ سمتہٖ وترالحادۃ وسائرھن اوتار القائمۃ فان قام المؤذن فی احد الطرفین كان بعیدا عن المنبر وان قام بحذائہ كان قریبًامنہ بحیث لاقرب فوقہ فكان ھذا معنی قولھم عندالمنبروھو |
"كہ كسی شے كے شرائط معروف ہوں اوراسے ملطق بولا جائے تو انہیں شرائط كے ساتھ ملحوظ ہوگا جیسا كہ الله تعالٰی نے فرمایا كہ نماز قائم كرو،تو اس كا مطلب یہ ہے كہ نماز "كو شرائط كےساتھ قائم كرو۔" جب صو رت حال یہ ہے تو مان لو كہ فقہاء نے قریب المنبر كہہ كر انتہائی قرب مراد لیا لیكن اس پر نادانوں كی آنكھ ٹھنڈی نہ ہونا چاہئیے،كیونكہ اس انتہائی قرب سے مراد بھی وہی قرب ہوگا جس كی شریعت میں گنجائش ہو،اورشرع مقدس كا یہ حكم شائع اورذائع ہے كہ مسجد میں اذان مكروہ ہے،ایسی صورت میں قرب كی انتہا حدود مسجد تك ہوگی،اوراس حد میں بھی سماعت كی گنجائش ہے كہ منبر سے سب سے قریب وہ مقام ہوگا جو اس كے ٹھیك مقابل ہواس لئے كہ جب ہم منبر سے مسجد كی نچلی طرف خطوط كھینچیں تو جو خط سیدھا اس كی طرف جائے وہ حادہ كا وتر ہوگا۔اوربقیہ خطوط قائمہ كے وتر ہوں گے۔تو مؤذن اگرادھر اُدھر كے خطوط پر كھڑا ہوگا تو منبر سے دورہوگا كہ اس سے زیادہ قرب ممكن نہیں،تو فقہاء كے قول قریبًامنہ كے یہ معنی ہوئے كہ قریب ہونے كی جو انتہائی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع