30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی النفحۃ الثانیۃ العودیۃ عن الجوھرۃ النیرۃ ھذا اذا كان الحافظ قریبًا منہ ای بحیث یراہ اما اذا بعد بحیث لایراہ فلیس بحافظ[1]۔فہذاقرب البصر ھذہ مصادیق القرب المطلق فی عرف الفقہاء الكرام فان كان الرسم لدیكم ان خطیبكم یاكل المؤذن او مؤذنكم یبتلع المنبر فنعم لابدمن قرب التناول والافما المعین لہ والحامل علیہ نسأل الله اراء ۃ الحق والھدایۃ الیہ اٰمین۔ وتاسعًا قداعترف الرجل ان فی العرف لعندفی كل محل حد علیٰحدۃ للقرب بقرینۃ القیام فكان علیہ ان یثبت بالدلیل ان قضیۃ مقام الاذان فی القرب عن الامام الحد الفلانی،لكنہ ادعی وقنع بالادعاء اللسانی ولو كفت الدعوی للثبوت لقام بالبرھان كل مبھوت،فمالك تقر ولا تقروتمیل الی الحق ثم تفر۔ وعاشرًا:وقال الله |
كرآئےہیں كہ جوہرہ نیرہ میں ہے:"یہ حكم تب ہے كہ نگراں اس سے اتنی قریب ہوكہ اسے دیكھ رہا ہوا وراتنی دور ہوكہ نہ دیكھے تو وہ حافظ اورنگراں ہی نہیں۔"یہ قرب بصر كی مثال ہے اورفقہاء كرام كے عرف میں یہ سارے مصادیق قرب مطلق كے ہیں،تواگر آ پ كے وہاں یی رسم ہو كہ خطیب موذن كو كھاتاہویامؤذن منبر كو نگلتاہوتو ضرور یہاں قرب سے قرب تناول امروہوگا،ورنہ یہاں قرب تناول كو متعین كرنے اوراس پر برانگیختہ كرنے والی كیاچیز ہے۔ہم الله تعالٰی سے حق وہدایت كے طالب ہیں۔ تاسعًا:یہ شخص اعتراف كرچكاہے كہ عندہر مقام پر قرینہ كے لحاظ سے علٰحدہ علٰحدہ قرب كےلئے ہے۔تو اس كو دلیل سے یہ ثابت كرنا چاہئیے تھا كہ مسئلہ مقام اذان میں امام سے قرب كی یہ حد ہے لیكن اس نے ایك دعوٰی كیا اورثبوت كے لئے اسی دعوٰی كاكافی سمجھا۔اگر ثبو ت كے لئے صرف دعوٰی كافی ہوتاتو ہر مہبوت دلیل والا ہوتالیكن ان كا عجیب شیوہ ہے كہ اقراركر كے انكار كرتے ہیں اورحق كی طرف مائل ہوكر اسی سے گریز بھی كرتے ہیں۔ عاشرًا:الله تعالٰی فرماتاہے: |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع