30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المسألۃ الحادیۃ عشرۃ :وفی شرح الدرروفی الدر المختار اذا احیٰی مسلم اوذمی ارضًاغیر منتفع بھا و لیست بمملوكۃ لمسلم ولا ذمی وھی بعیدۃ من القریۃ اذا صاح من باقصٰی العامر(وھو جہوری الصوت، بزازیۃ)لایسمع بھا صوتہ ملكہا[1] الخ۔و فی الكفایۃ من الذخیرۃ الفاصل بین القریب والبعید مروی عن ابی یوسف رحمہ الله تعالٰی یقوم رجل جھوری الصورت من اقصٰی العمرانات علی مكان عال وینادی باعلٰی صوتہ فای لموضع الذی لایسمع فیہ یكون بعیدًا[2]۔ المسالۃ الثانیۃ عشرۃ:وفی الدرالمختار لوجد قتیلا فی الشارع الاعظم والسجن والجامع لاقسامۃ و الدیۃ علی بیت المال ان كان نائیًا ای بعیداعن المحلات والایكن نائیا بل قریبا منھا فعلی اقرب المحلات الیہ[3] (قال الشامی قولہ قریبا منھا)الظاھر ان |
مسئلہ۱۱:شرح درراوردرمختار میں ہے:"كسی مسلمان یا ذمی نے كوئی بنجر زمین آباد كی اوروہ كسی كی ملك نہ ہو،نہ مسلمان كی نہ ذمی كی۔اوریہ آبادی سے اتنی دور ہوكہ كنارہ آبادی سے پكاراجائے اورپكارنے والا بلند آواز ہو،بزازیہ تو آواز سننے میں نہ آئے،تو آبادكرنے والااس زمین كا مالك ہوگا۔"اوركفایہ میں ذخیرہ سے مروی ہے:"قریب وبعید كے درمیان حد فاصل حضرت قاضی ابویوسف رحمۃ الله علیہ سے مروی ہے آپ نے فرمایا ایك بلند آواز آدمی آبادی كے انتہائی سرے سے كسی بلند جگہ كھڑے ہوكر پوری طاقت سے پكارے اورآواز وہاں نہ پہنچے تو وہ بعید ہے۔" مسئلہ ۱۲:درمختارمیں ہے:"اگر كوئی مقتول شارع عام میں، قید خانہ مٰں اورمسجد جامع میں پایاگیا تو اس كا تاوان كسی پر نہیں ہے ابلتہ اگس كی دیت بیت المال سے ادا كی جائے گی۔ یہ جب ہے كہ وہ جگہیں محلوں سے بعید ہوں۔اور اگرقریب ہوں تو جو محلہ وہاں سے سب سے قریب ہو اس پر تاوان ہے۔ "امام شافعی نے فرمایا كہ "ظاہر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع