30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
القریۃ اوالبلدۃ ان كان قریبا والافلا،وحدالقریب ان یبلغ الاذان الیہ منہا[1]۔ المسألۃ السابعۃ:قال المحقق فی الفتح یحرم فی الخطبۃ الكلام و ان كان امرًابمعروف اوتسبیحًاو الاكل والشرب والكتابۃ(الٰی ان قال)ھذا كلہ اذا كان قریبًابحث یسمع فان كان بعیدًابحیث لایسمع اختلف المتأخرون فیہ فمحمد بن مسلمۃ اختار السكوت ونصیر بن یحیٰی اختارالقراءۃ [2]الخ۔
المسألۃ الثامنۃ:فی الہندیۃ من تكبیرات العیدین عن المحیط عن محمد یری تكبیر ابن مسعود فكبر الامام غیرذٰلك اتبع الامام الاذاكبرالامام تكبیرًا لم یكبرہ احدمن الفقہاء[3]اھ(ثم نقل عن البدائع) لكن ھذا اذا كان بقرب الامام |
ہےبشرطیكہ قریب ہو ورنہ كافی نہ ہوگی اورقریب ہونے كی حد یہ ہے كہ وہاں سے اذان كی آواز اس تك پہنچ سكتی ہو۔ مسئلہ۷: محقق ابن ہمام نے فتح القدیرمیں ارشادفرمایا:خطبہ كی حالت میں كلام منع ہے گوامربالمعروف ہی كیوں نہ ہو، یونہی تسبیح یا كھانا پینا اوركتابت سبھی منع ہے(الٰی ان قال)یہ احكام اس وقت ہیں كہ مقتدی امام كے اتنا قریب ہوكہ امام كی آواز سن رہا ہو،اوراگر دورہوكہ امام كی آوازنہیں سن رہا تو متاخرین نے اس بارے میں اختلاف كیاہے،حضرت محمد ابن مسلمہ سكوت پسند كرتے ہیں اورنصیرالدین یحیٰی قراء ت پسند كرتے ہیں۔ مسئلہ۸:عالمگیری كے باب تكبیرات عیدین میں ہے كہ "امام محمد رحمۃ الله تعالٰی علیہ نماز عید میں تكبیرات زوائدكے بارے میں حضرت ابن مسعود رضی الله تعالٰی عنہ كے قول كو پسند كرتے تھے(یعنی چھ زائد تكبیریں)امام اگر اس كے علاوہ اتی تكبیریں كہے جو كسی فقیہ كا مذہب نہ ہوتو مقتدی امام كی پیروی نہ كرے۔"پھر بدائع سے نقل كیا"یہ اس وقت ہے جب |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع