30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
القاضی وقرب مكانہ [1]اھ،قال البحر ثم الشامی فان كان بعیدا بحیث لا یمكنہ ام یغدوا الی القاضی لاداء الشھادۃ و یرجع الی اھلہ فی یومہ ذلك قالوا لا یاثم لانہ یلحقہ الضرر بذلك و قال الله تعالٰی ولا یضار كاتب ولا شھید[2] ا ھ
المسألۃ الرابعۃ:فی الذخیرۃ ثم العالمگیریۃ اذا كان المدعی علیہ خارج المصرانہ علی وجھین الاول ان یكون قریبًامن المصرفیعدیہ بمجردالدعوی وان كان بعیدالایعد یہ والفاصل بین القریب والبعیدانہ اذا كان بحیث لو ابتكر من اھلہ امكنہ ان یحضر مجلس الحكم ویجیب خصمہ ویبیت فی منزلہ فھٰذا قریب وان كان یحتاج الٰی ان یبیت |
ایك قاضی كی عدالت اورادائے شہادت كی جگہ كا قریب ہونا ہے۔شامی اوربحر الرائق دونوں میں ہی تصریح ہے كہ "اگر قاضی دورہوكہ دن بھر میں گواہی دے كر گواہ اپنے گھر واپس نہ پہنچ سكے تو گواہی دینا واجب نہیں كہ اتنی دور تك آنے جانے سےگواہ كو ضرر پہنچےگا،اورالله تعالٰی فرماتاہے كہ كہ كاتب اور گواہ كوضرر نہیں دیاجائے گا۔"دیكھئے ان تینوں مثالوں میں قرب سے مراد قرب میسرہے۔(قرب تناول مرادنہیں ہے۔) مسئلہ ۴:ذخیرہ پھر عالمگیریہ میں ہے جب مدعا علیہ شہر سے باہر ہو تو اس كی دو صورتیں ہیں،اگر وہ شہر كے قریب ہے تو قاضی مجرد دعوی كی بنا پر اس كو عدالت میں پیش ہونے كا حكم بھیجے گا اور اگر وہ دور ہے تو ایسا نہیں كرے گا،قریب و بعید میں فرق یہ ہے كہ اگر وہ ایسی جگہ ہو جہاں وہ صبح اپنے گھر والوں سے نكلے تو مجلس قضا میں حاضر ہو كر اپنے خصم كو جواب دے كر واپس اپنے گھر والوں كو آكر رات گزارنا ممكن ہوتو قریب شمار ہوگا اور اگر رات كہیں راستے میں گزارنا پڑے تو بعید شمار ہوگا۔ذخیرہ میں یونہی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع