30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یكون الشیئ منك بحیث تصل یدك الیہ كقولہ تعالٰی"فَرَاغَ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیۡنٍ ﴿ۙ۲۶﴾ فَقَرَّبَہٗۤ اِلَیۡہِمْ قَالَ اَلَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۫۲۷﴾"[1]۔" ومنھا"قرب السمع ان یبلغہ صوتك۔ومنھا قرب السیر"ان لایلحقك كبیر حرج فی الوصول الی۔فلو خص الفقہاء القرب لقرب التناول صلح كلامك وحصل مرامك لكنھم براء عنہ قطعًا اكبر كلماتھم تراھم یطلقون القرب و یعنون بہ احدالوجوہ الثلٰثۃ الاخیرۃ حتی تافت عباراتھم فی تفسیر القرب المطلق عشرًافیما یحضر فی الاٰن ولعل مالم اتذكرنحوھا او اكثر۔ وبیان ذالك فی مسائل۔
المسألۃ الاولٰی:اطبقواان الماء ان كان قریبًالم یجز التیمم للمسافروان كان بعیدًاجاز واختلفواان ای ماء یسمٰی قریبابالاتفاق علٰی ان المراد قرب |
یہ ہوتاہے كہ وہ شے ایسی جگہ ہے جہاں تمہارا ہاتھ پہنچ سكے۔جیسے الله تعالٰی فرماتاہے كہ "حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی اہل كی طرف گئے اورایك گرم بُھنا ہوا بچھڑالائے اوراسے فرشتوں كے قریب كیا اوران سے كہا كیوں نہیں كھاتے ہو۔ "اوران سے ہے "قرب سمع"جہاں تك آپ كی آواز پہنچ سكے اوران سے ہے "قرب سیر"یہ كہ وہاں تك پہنچنے میں آپ كو زیادہ حرج نہ لاحق ہو۔ تو اگر فقہاء نے اپنے كلام میں قرب كو قرب تناول تك ہی خاص كیا ہوتاتو آپ كا كلام درست ہوا اورآپ كا مقصد حاصل ہوتا،لیكن "حضرت اس سے قطعی طور پر بری ہیں انكے بیشتر كلمات میں قرب كا لفظ بقیہ تین معنوں میں سےسی ایك كے لئے استعمال ہوا ہے۔فی الوقت قرب مطلق كی تفسیر میں فقہاء كی دس عبارتیں مجھے یادہیں(اورجو مستحضر نہیں وہ بھی اس سے زائدہوں گی)جن كا بیان مندرجہ ذیل مسائل میں ہے: مسئلہ۱:سب فقہاء كا اتفاق ہے كہ پانی قریب ہوت ومسافر كر تیمم جائز نہیں،اور دورہوتو جائزہے اورقرب وبعد مسافت میں اس كے باوجوداختلاف ہوا كہ قرب سے مراد سب كے نزدیك وہی مسافت ہے جو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع