30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ناطق ببطلان ماتحكم ولنسردعلیك شیئامنہ فستھدی الی الحق ان ارادالله والافیستہدی غیرك ممن ھدی الله ۔
فاقول: وبالله التوفیق لاشك ان القرب امر اضافی فاذا ذكر الحاشیتان والتفاصل بینھما فلا یمتری غیر مجنون ان القرب لاینتھی الی حدلا یتجاوزہ مالم ینقطع العالم كلہ فكل بعید من شیئ مھما بعد اقرب الیہ بالنسبۃ الٰی ماھو بعد منہ كالكرسی اقرب الی الارض من العرش مع انہ ابعد الاجسام من الفرش بعدالعرش بحیث لایقدربعدہ الاخالقہ عزوجل ثم من علمہ لكن ربما كون للشیئ بالنظر الٰی اٰخر حالۃ یطلق علیہ بالنسبۃ الیہ لفظ القریب مطلقا بدون لحاظ اضافتہ الٰی شیئ ثالث ولہ وجوہ كثیرۃ مختلفۃ باختلاف المقام۔منھا"قرب التناول"ان |
میں بولتے ہیں۔آپ كے اس دعوٰی كے بطلان پر بہت سے دلیلیں ہیں ان یں سے چند كو ہم بیان كرتے ہیں ممكن ہے آپ كو حق كی ہدایت ہو اوراگر مرضی الٰہی یہ نہ ہو تو كسی دوسرے كو ہی ہدایت ہوگی۔ فاقول:وبالله التوفیق(پس میں الله تعالٰی كی توفیق سے كہتاہوں)بلاشبہ قرب ایك اضافی چیز ہے،تو جب دونوں حدوں كاذكر كردیا جائے تو پاگل ہی یہ خیال كرے گا كہ قرب اسی پر ختم ہے،اوراس سے متجاوزنہ ہوگاورنہ جب تك كل عالم ختم نہ ہوجائے۔ہر اگلی منزل قریب ہوسكتی ہے كیونكہ كوئی چیز جو كسی چیز سے دور ہو۔جب ہم اس كو اس سے دور والی چیز كی نسبت سے دیكھیں گے،تو یہ قریب ہوجائے گی،جیسے كرسی زمین سے بہ نسبت عرش كے قریب ہے اوروہ بہ نسبت اجسام عرش كے بعد زمین سے سب سے زیادہ دورہے،اتنا دور كہ اس كی دوری كا اندازہ اس كا پیدا كرنے والا ہی كرسكتاہے یا وہ جسے الله تعالٰی بتائے۔لیكن بسا اوقات ایك چیز كو بہ نسبت دوسری چیز كے ایسی حالت ہوتی ہے جس پر لفظ قریب كا اطلاق ہوتاہے،اوراس میں كسی تیسری چیز كی طرف اضافت كا لحاظ نہیں ہوتا۔اس قرب كی اختلاف مقام كے لحاظ سے مختلف كثیر قسمیں ہیں۔ان سے ایك قرب تناول ہے۔اس كا مطلب |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع