30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
سادسًا:ماذا یقول المعاند فی قول العلامۃ خیرالدین الرملی رحمہ الله تعالٰی فی فتاواہ "فی رجل حلف بالطلاق الثلاث انہ لایشتٰی عند زوجتہ فی البلد فشتٰی فی جامعہا لایقع علیہا الطلاق لان الشرط كون التشتیۃ فی البلد عندھا ولم یوجد وعند للحضرۃ الا ان ینوی ذٰلك والله تعالٰی تعالٰی اعلم [1] اھ" بالالتقاط فھٰذہ مسئلۃ الحلف انما مبنی الحلف علی العرف وقدافصح فیہ ان عند للحضرۃ فظھر ان ما ذكر ائمۃ الاصول ھو العرف،وبالجملۃ فالحق ان لا خلف ھٰھنا بین اللغۃ ولسان الشرع والاصول و الفقہ والعرف كل ذٰلك متوارد علی ماذكرنا من معانی بین یدی وعند ولیس ھنانقل ولا اشتراك و لا تجوزبل معنی مطلق منتخب علٰی مصادیقہ یتعین |
یہاں تو عرف عوام كی ضرورت ہے۔بھلا كلامِ فقہاء میں عرف عوام كی كیا ضرورت!سچ یہ ہے كہ تعصب آدمی كو اندھا اور بہرا كر دیتاہے۔
سادسًا:آخر یہ معاند اس كا كیا جواب دیں گے كہ علامہ خیرالدین رملی رحمۃ الله علیہ اپنے فتاوٰی میں فرماتے ہیں كہ ایك شخص نے قسم كھائی كہ میری بیوی كو تین طلاقیں اگر میں جاڑے میں اس شہر میں اپنی بیوی كے ساتھ رہوں۔اوراس نے اس شہر كی جامع مسجد یں جاڑاگزارا،تو اس عورت پر طلاق نہ پڑے گی كیونكہ شرط جاڑے میں شہر میں بیوی كے ساتھ رہنے كی تھی،اوروہ نہیں پائی گئی۔اور عند كا لفظ حضور كے لئے ہے بان ھذا البلد سے اس كی نیت جامع مسجد كی بھی ہوتو طلاق پڑ جائے گی۔مسائل حلف كی نا عرف پر ہے۔اورامام رملی نے صاف بیان كردیا كہ عند حضور كےلئے ہے۔اس سے معلوم ہوا كہ عند كے بارے میں ائمہ اصول نے جو فرمایا وہ بھی معنی عرفی ہی ہے۔خلاصۂ كلام یہ ہے كہ یہاں لغوی معنی كا كوئی نائب نہیں۔اورزبان شرع اوراصول وفقہ اورعرف سب لغوی معنی كے ہی موافق ہیں،جیسا كہ ہم نے بین یدیہ اور عند كے معنی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع