30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
انما باللغۃ العربیۃ ما لم یثبت نقل كلفظ الصلٰوۃ ونحوہ فیصیر منقولًاشرعیًا[1]اھ۔"وقال بحرالعلوم فی فواتح الرحموت دعوی النقل دعوی علی الله تعالٰی فلابدلاثباتھامن قاطع ولیس ھٰھنا امارۃ ظنیۃ فضلا عن القاطع فلایلیق بحال مسلم ان یجترأعلی الله بمالم بعلم[2]۔
ورابعًا:كل كلام انما یحمل علی عرف التكلم كمانصوا علیہ فی غیر مامقام وسیدنا ساءب بن یزید رضی الله تعالٰی عنہما من اھل اللسان ولایتكلم الاعلٰی عرفھم ولم یكن لہ اصطلاح خاص علی خلاف العرف العام وقداطلق"بین یدیہ"علی اذان كان |
خطاب لغت عرب میں ہی ہے جب تك كہ نقل سے ثابت نہ ہو جیسے لفظ صلٰوۃ وغیر۔ثبوت نقل كے بعد البتہ یہ منقول شرعی ہوجائے گا۔"حضرت مولانا عبدالعلی بحرالعلوم رحمۃ الہ علیہ فواتح الرحموت میں فرماتے ہیں:"نقل كا دعوٰی الله تعالٰی پر ایك دعوٰ ی ہے تو اس كاثبوت دلیل قطعی سے ضروری ہے اورفیما نحن فیہ علامت طنی بھی نہیں چہ جائیكہ قطعی ہوتو مسلمان كیلئے یہ درست نہیں كہ بے جانے الله تعالٰی پر یہ جرأت كرے۔"(توآپ جو یہ فرماتے ہیں كہ بین یدیہ كے معنی متصل منبر ہوناہے۔نہ محاورہ قرآنی ہے نہ حدیث كی بول چال ہے،نہ لغت واصول میں ہے۔یہ تو عرف عوام ہے۔بے ثبوت آپ كا یہ عرف عام پیدا كہاں سے ہوگا؟) رابعًا:ہر كلام میں متكلم كے محاور اورعرف عام كا لحاظ كیا جاتا ہے۔حضرت ساءب ابن یزیدرضی الله تعالٰی عنہ اہل عرب اورصاحب لسان عرب ہیں۔آپ كا كلام بھی عربی بول چال اورعربی محاورہ میں ہی ہوگا۔عرف كے خلاف ان كی كوئی خاص اصطلاح نہ ہوگی۔انہوں نے "بین یدیہ "كالفظ مسجد كے دروازہ پر اذان كیلئے استعمال كیا،اوراسی معنی پرہم نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع