30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لاتثبت الا بكلامہافھما متلازمان وفی الاصل ولا امكان لادعاء النقل الابحجۃ وبرھان فصل كیف وان النقل خلاف الاصل۔
وثالثًا:كذٰلك القراٰن العظیم انما نزل بلسنان عربی مبین قال تعالٰی "اِنَّا جَعَلْنٰہُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا"[1]وقال تعالٰی "اِنَّہٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّکُمْ تَنۡطِقُوۡنَ ﴿٪۲۳﴾"[2]۔فمافیہ الا كانوا یتحرونہ فیما بینھم غیر ماثبت فیہ النقل الشرعی فثبوت معی فی القرآن ادل دلیل واجلہ علی محاورۃ العرب،اللھم الان یثبت النقل الشرعی و دون ثبوتہ خرط القتادواوادعاؤہ جزافًا امر عظیم فی الفساد،قال المحقق علی الاطلاق فی الفتح والبحرفی البحرو الشامی فی ردالمحتار:"الخطاب |
بول چال تو لغت عرب ہے(توپھر آپ لغت سے كیسے استدلال كرتے ہیں آپ تو عرف عام كے دعویدارہیں)قصہ اصل یہ ہے كہ آپ كے عوام كا عرف بین یدیہ اورعند میں آگرچہ ہوگاتو معنی منقول،اورچونكہ نقل خالف اصل ہوتاہے تو اس كے لئے بھی آپ كودلیل لاناپڑے گی،وہ كہاں سےلائیں گے؟ ثالثًا:یونہی قرآن عظیم عربی مبین میں نازل ہوا،اس پاك كلام میں ہے "ہم نے اس كو عربی زبان میں اتارا"اور"یہ بیشك حق اورتمہارے ہی كلام كی طرح ہے۔"توقرآن كریم میں عرب كے ہی محاورے ہوں گے۔عربیوں كے محاوروں كے خلاف اگركچھ ہوتو اس كے لئے نقل شرعی كا ثبوت دركارہے۔تو قرآن میں كوئی لفظ كسی معنی میں بولاجانایہ ہاس بات كی سب سے بڑی دلیل ہوگی كہ اس لفظ كے محاورۂ عرب میں یہ معنی ہیں،اورمعنی شرعی كے لئے نقل كا ثبوت ضروری ہے۔اورمسئلہ بین یدہ میں اس كاثبوت محال،اورخالی دعوٰی لایعنی بڑ ہے۔حضرت محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اور صاحب بحر نے بحرالرائق میں،اور علامہ شامی نے رد المحتار میں فرمایا:"قرآن كا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع