30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ذراعین وقدم الانسان شبروربع شبرٍ فان اخذ المثلث متساوی الاضلاع تحدث زاویۃ حادۃ وكون الفصل ذراعین الا قلیلًاوفی القائمۃ اقل منہ وفی المنفرجۃ اقل من الاقل والحادۃ وان امكن اخرجہا خارج باب المسجد لكن یسقط ھذا الاحتمال قید ان یوذن المؤذن قائما فی زاویۃ لان الباب ان بعدار بعین ذراعًاوالوتركما تقدم ذراعان فالزاویۃ الحادثۃ خارج الباب تكون ضیقۃ جدا لاتسع عودا دقیقا فضلا عن الانسان مع انا مقصود القہستانی ان تمكن الزوایا الثلاث ثمہ ولا امكان ھناك لغیر الحادۃ اھ۔ ھذیانہ المتعلق بالمبحث الھندسی وقد علمت انہ جھل منہ وسوء فھم۔ فاولًا:لم یخرج القہستانی خطی المقام عن كتفی الامام بل عن خطی الجہتین كمامرّ۔ |
سوابالشت كا ہوتاہے اوروہاں مثلث متساوی الاضلاع بنایا جائے توزاویہ حادہ پیداہوگااورفاصلہ دوہاتھ سے ذرا كم ہوگا،اورقائمہ میں اسے كم،اورمنفرجہ میں كم سے بھی كم۔اورزاویہ حادہ مسجد سے باہر بھی فرض كیاجاسكتاہے لیكن اس احتمال كو قہستانی كی یہ عبارت ساقط كردیتی ہے كہ موذن زاویہ كے اندر كھڑے ہوكر اذان دے كیونكر دروازہ مسجد اگر منبر سے چالیس ہاتھ كی دوری پر ہو۔اورمثلث كا وتر وہی دو ہاتھ كا ہوتو اس وتر پر چالیس ہاتھ كی دوری پر جوزاویہ حادہ پیدا ہوگا وہ بیحد تنگ ہوگا،وہاں ایك باریك لكڑی كی بھی گنجائش نہ ہوگی چہ جائیكہ انسان كی،حالانكہ قہستانی كا مقصد تویہ ہے كہ وہاں تینوں زاویے پیدا ہوں اور اس صورت مذكورہ بالا میں باب مسجد پر سوائے حادہ كے اوركسی زاویہ كا امكان ہی نہیں۔ میری گزارش یہ ہے كہ یہ ریاضی كی بحث تو كیا ہوگی یہ تو ہذیان ہے جو جہل اورسوء فہمی كی پیداوارہے۔ اولًا:قہستانی نے مقام مؤذن كے خطوط كو امام كے دونوں مونڈھوں سے نكلنے كی بات نہیں كی بلكہ وہ تو جہتین كے دونوں خطوط سے نكلتی ہیں مونڈھوں سے نہیں۔جیسا كہ ہم واضح كر آئے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع