30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بغلۃ فزعم ان القہستانی ذكر قولہ ای قریبًامنہ بعد قولہ عند المنبر وھذا افتراء منہ علیہ فلیس ھنا فی كلام القہستانی لفظۃ "عندالمنبر" اصلًاولا لفظۃ "ای "ولو كان لم یكن فیہ مایقرعینہ فلا القرب ینكرولا فی جوف المسجد یحصر كما تبین مرارًاواما الجاھلان فقتحما خوض بحراغرقھما فقال احدھما ان وتر المثلث عرض المنبر وقدعلمت ردہ ان المراد بالمنبر الام اومابین كتفیہ یستحیل ان یراد وترا وقال الاٰخر فی تفسیر كلام القہستانی یخرج خطان عن یمین الامام ویسارہٖ حتی یلتقیا علٰی زاویۃ قائمۃ اوحادۃ اومنفجرۃ فیقوم المؤذن فی ھٰذہ الزاویۃ ویؤذن قال وكان عرض منبررسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم |
كہ شطرنج كی بساط پرخچر دوڑادیا۔آپ فرماتے ہیں كہ قہستانی نے لفظ قریبًا منہ كولفط عند المنبر كے بعد ركھا،حالانكہ یہاں قہستانی كے پورے كلام میں عند المنبر كا لفط كہیں نہیں۔تویہ طالب علم قہستانی پر افتراء كر رہے ہیں،وہ افتراء بھی بے مزہ، كیونكہ قہستانی كی اصل عبارت میں یہ لفظ ہوتا تب بھی ان كی تسلی كا كوئی سامان نہ تھا كہ ہم كو قریب منبر ہونے سے كب انكار ہے،ہمارا تو كہنا یہ ہے كہ قریب بہت وسیع المعنٰی لفظ ہے،اس لئے قریب ہونے كیلئے اذان كا مسجد میں ہونا ضروری نہیں،جیسا كہ باربار واضح ہوچكا اوران دو جاہل صاحبان نے (ریاضی كے)سمندر میں غوطہ لگایا جو خود انہیں كو لے ڈوبا۔ ان میں سے ایك نے كہا كہ مثلث كا وتر منبر كی چوڑائی ہے، جبكہ ہم یہ طے كر آئے ہیں علماء كی تحریروں میں منبر كے لفظ سے بھی امام اور اس كے دونوں مونڈھوں كا بیچ مراد ہے۔اور یہ بھی ظاہر كر آئے ہیں كہ اس جگہ كا مذكورہ مثلث كا وتر ہونا محل ہے۔اوردوسرے جاہل صاحب كا خیال ہے كہ قہستانی كے بقول دونوں خط امام كے دائیں بائیں سے نكل كر زاویہ قائمہ یا حادہ یا منفرجہ پر ملیں گے،اور موذن اسی زاویہ پركھڑے ہو كر اذان دے گا،اس نے كہا چونكہ حضور كے عہد مبارك میں آپ كے منبر كی چوڑائی دوہاتھ كی تھی،اورآدمی كا قدم |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع