30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اما احد الضالین واضلھما فجعلہ دلیلاعلی انہ لاحاجۃ ای المحاذاۃ عینا بین الخطیب المؤذن وجعلہ ردًا علی كلام اھل الحق من ھذہ الجھۃ وھٰذا جھل منہ شدیدفان المحاذاۃ سنۃ لاشك،وان اراد بھا مسامتۃ جہتی الموذن والامام فلا محاذاۃ مقصرۃ علیہ ولا كلام اھل الحق یومی الیہ لكن الجھلۃ لا یفہمون۔والباقون استدلوابھا علٰی ان ھذا الاذان داخل المسجد لصیق المنبر فاان الضال الاٰخر فاقتصر علی الاستدلال بقولہ قریبًامنہ۔قد علمت ردہ مرارًاوفسرقولہ الہتین لمسامتین الخ،بما بین جہتی الامام اما بیمینہٖ اویسارہٖ۔اترٰی مثل ھٰؤلاء الجہلاء اھلا لمخاطبۃ۔وامان الذی یعد من الطلبۃ فزادفی الطنبور نغمۃ وفی الشطرنج |
ایك نام نہاد طالب علم ہیں۔ایك وہابی صاھب نے قہستانی كی اس عبارت سے یہ استدلال كی اہے كہ اس عبارت سے ثابت ہے كہ مؤذن اورخطیب كا سامنا ضروری نہیں ہے،اورعلمائے اہلسنت كے اس دعوٰی كا قہستانی كی یہ عبارت رد ہے اوریہ اسكا جہل شدید ہے۔"مؤذن اورخطیب كا سامنا بلا شبہ سنت ہے۔"ہاں اگر سامنے كا مطلب یہ لیا جائے كہ دونوں كا چہرہ ٹھیك ایك دوسرے كے مقابل ہوناضروری ہے،تو یہ نہ سنت سے ثابت نہ اہل حق اس كے مدعی۔ہم "سامنے"كا مطلب كافی وضاحت سے سمجھا آئے لیكن جاہل كیا سمجھیں۔اورباقیوں نے اس عبات سے اس بات پر استدلال كیا ہے كہ اذان ثانی مسجد كے اند رمنبر سے متصل ہوگی۔دوسرے وہابی صاحب نے اس مدعا پر لفظ قریبًا منہ سے استدلال كیا ہے(كہ عبارت قہستانی میں اس اذان كے "منبر كے قریب ہونے "كی تصریح كی ہے)لیكن اس سے كیا حاصل۔"قریب "كے لفظ پر تو ہم باربار روشنی ڈال چكے ہیں كہ یہ اپنے معنی میں كس قدر وسعت ركھتا ہے۔اوراسی شخص نے قہستانی كے لفظ جہتین مسامتین كی تفسیر كی كہ امام كی یمین ویسار كی د وجہتوں كے درمیان۔بھلا ایسے جاہل مخاطبہ كےلائق بھی ہیں۔اورنام نہاد طالب علم صاحب نے تو اورگل كھلایا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع