30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المؤذن باستقبال القبلۃ لاتنفی مااذاكان ظہر المؤذن لظہرالامام بان قام المؤذن بین الامام والقبلۃ متوجہًا لكعبۃ وربما یتركون متسعا كبیرًا بین المنبر والقبلۃ كما ھو مشاھد فی مكۃ المكرمۃ وذٰلك لان الجہتین المسامتین تمتدان خلف الیدین ایضا كما تمتدان امامھما۔
قلنا نعم ھذا مشكل الاان یقل باخراجہ بقرینہ قول الماتن واستقبلوہ فان المؤذن داخل فی عموم ھذا الجمع وفیہ نظر لان عبارۃ المتن واستقبلوہ مستمعین وھذا بیان حال الخطبۃ والاذان قبلہاو لذا مرضہ بقولہ الا اذا قیل [1]الخ۔ھذا شرح كلامہ حسب مرامہ۔اقول:وفیہ اولًا لا تفریع شمول الزوایا الثلٰث علیتسكین الوسط بل لو كان بتحریكہ لشملھا ایضًا كما علمت فی الخامسۃ۔ |
روبقبلہ اذان دینے كا قرینہ اس صورت كو نفی تو نہیں كرتاكہ مؤذن كی پشت امام كی پشت كی طر ف ہو،اور موذن امام اورقبلہ كے بیچ میں كعبہ كی طرف رخ كر كے كھڑاہو۔كیونكہ بہت سی مسجدوں میں لوگ منبر اور دیوار قبلہ كے بیچ میں كافی وسیع جگہ چھوڑدیتے ہیں۔خود مكہ میں مسجد حرام كے اندر بھی ایس اہی ہے ہ دو طرف متوازی جہتیں امام كے آگے اورپیچھے دونوں طرف ہی ہوسكتی تھی۔
یہ اعتراض ضرورمشكل ہے مگر اس كا یہ جواب دیا جاسكتاہے كہ متن میں سب كو امام كی طرف متوجہ ہونے كا حكم ہے،اور اس سب میں موذن بھی داخل ہے،اس لئے كہ اس كو بھی امام كی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے،مگر كوئی كہہ سكتاہے كہ امام كی طرف رخ كرنے كا حكم خطبہ كی حالت میں ہے نہ كہ اذان كی حالت میں۔قہستانی نے اسی لئے اس سوالكا جواب لفظ قیل سے دیا ہےجو جواب كےضعف پردلالت كرتاہے۔ یہاں تك قہستانی كی پوری عبارت كی توجیہ انہیں كے حسب منشا ہوئی مگر اس پر پہلا شبہ یہ ہے كہ زوایا ثلٰث كی وسط بالسكون كے ساتھ كوئی خصوصیت نہیں یہ تو عمودپر ملتقی ہونے كی صورت میں بھی متحقق ہوں گے۔یہ بات مقدمہ خامسہ میں ظاہر ہوچكی ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع