30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فان قلت ھذا كمایشمل الزوایا یشمل مااذاكان ظھرالمؤذن الٰی وجہ الامام۔ قلنا نعم ھوداخل فی مفہوم بین یدیہ ولكن لیس كل مایشملہ مفہوم اللفظ یكون مرادًافان الاطلاق غیرالعموم وقددلت القرائن ھٰہنا ان المرادالمواجھۃ بین الامام والموذن لان الامام علی المنبر مستدبر القبلۃ والمؤذن بین یدیہ وقدامران یستقبل القبلۃ فی الاذان فتعین ان یكون وجہہ الٰی وجہ الامام كما ان مفہوم بین یدیہ یشمل المتصل والمنفصل والخارج عن المسجد والداخل لكن دلت الدلائل ان داخل المسجدغیر مقصود ولاالبعید بحیث الا یعداذانہ اذانالہذا المسجدفتعین كونہ فی حدود المسجدوفنائہ مرادًا والاعتراض علیہ بشمول مفہوم اللفظ جہل بعید كشمولہ لمستدیرالقبلۃ۔
فان قلت قرینۃ امر |
اگر یہ اعتراض كیا جائے كہ یہ جس طرح زوایا ثلٰث كو شامل ہے اس صورت كو بھی شامل ہے جب مؤذن كی پشیت امام كی طرف ہو۔ جواب یہ ہے كہ بیشك بین یدیہ كے مفہوم میں یہ صورت بھی داخل ہے لیكن یہ ضروری نہیں كہ لفظ كا مفہوم جس جس چیز كو شامل ہو سب لفظ سے مراد بھی ہوں،كیونكہ اطلاق عموم كے مغایر ہے،اوریہاں قرائن اس بات پردلالت كرتے ہیں كہ لفظ بین یدیہ كا مراد ومطلب امام اورمؤذن میں سامناہے، اس لئے كہ امام منبر پر قبلہ كی طرف پیٹھ كئے ہوتاہے، اورمؤذن كو ا سكے سامنے ہوكر اذان میں قبلہ كی طرف منہ كرنے كا حكم ہے۔تو متعین ہوگیا كہ مؤذن كا چہرہ امام كے چہر ہ كی طرف ہوگا۔اس كو اس طرح سمجھا جائے كہ لفظ بین یدیہ كے مفہوم میں امام سے متصل اس سے منفصل اورخارج مسجد سبھی داخل ہے،لیكن دلائل سے یہ ثابت ہوگیا كہ داخل مسجد مراد نہیں،نہ مسجد سے اتنادورمراد ہے كہ اس اذان كو اس مسجد كی اذان كہا ہی نہ جاسكے تو متعین ہوگیا كہ بین یدیہ سے مراد حدود مسجداورصحن مسجد ہے۔تو جیسے اس پرمفہوم یہ اعتراض كرنا غلط ہوگا كہ داخل مسجد مفہوم بین یدیہ میں داخل ہے،اسی طرح یہ اعتراض بھی غلط ہے كہ یہ لفظ اس صورت كو بھی شامل ہے جب مؤذن قبلہ كی طرف پیٹھ كر كے اذان كرے۔ یہاں یہ اعتراض بھی كیا جاسكتاہے كہ موذن كے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع