30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
كونہ خارج المسدج فی حدودہ وفنائہٖ فتعین ھو وتر الزاویۃ المقام بحكم فقہاء الكرام وسنۃ الشارع سید الانام علیہ واٰلہٖ افضل الصلٰوۃ والسلام فكان الشكل ھذا: |
حدود اوربیرونی صحن میں ہوگی۔تو معلوم ہواكہ مقام مؤذن كےزاویہ كا وتر فقہاء كے قول اورحضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم كی سنت كے موافق مسجد كی آخری حد ہی ہوگی،اس كا شكل اس طرح ہوگی: |

|
ا ب الخط الكتفی ا ء،ب ہ خطا الجہتین المسامتین ح ط العمود حر حد المسدج وفناؤہ۔اخرج م ح ر خطا المقام ح ك رك فالتقیا علی العمود واحدثا قائمۃ ك اوخطاح ی ر ی فاھدثا ی المنفرجۃ او خطا ح ل ر ل فاحدثا حادۃ ل ففی ایھا اذن المؤذن كان بین یدیہ والقیام فی ك غیر متعین علیہ۔ |
مذكورہ بالا صورت میں خط ا ب خط كتفی ہے اور ا ء،ب ہ دو خطوط جہت ہیں اورباہم متوازی ہیں اور ج ط خط كتفی كے نصف پر عمودوسط بالتحریك ہے۔ح ر مسجد كی حدود اوراس كا صحن ہے۔مقام ح ر سے دوخط مقام مؤذن كے ح ك اور ر ك اوردونوں عمود پر ملے اوراس سے زاویہ قائمہ ك پیدا ہوا اور دونوں خط ح ی ر ی مقام ی پر ملے تو زاویہ منفرجہ پیدا ہوا۔ اوردوخط ح ل ر ل مقام ل پرملے تو زاویہ حادہ پیداہوا۔(علامہ قہستانی یہی كہنا چاہتے ہیں)كہ مقام ك پر مؤذن كا كھڑا ہونا ضروری نہیں۔ان تینوں زاویوں میں سے جہاں بھی كھڑا ہو كر اذان دے گا بین یدی الخطیب ہوگا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع