30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
النفیسۃ المحتاجۃ الیھا فی علم الاوقات فی تحریراتنا التوفیق فلذا لم یخرج الخطین المحدثین زاویۃ مقام المؤذن بالتفائھما ونسمیھا خطی المقام عن یمین الامام وشمالہ بل عن موضع مامن امتداد خطی الھاتین وذٰلك قولہ خارجین من ھاتین الجہتین[1]۔
وھما كما تری غیر محدودتین وانما یاتی التحدید من قبل قضیۃ المحل وھی ھنا كما یبنابدلائل قاھرۃ و نصوص باھرۃ |
اوراہل ہیئت كا قول ہے كہ ایك قدم ذراع كا دوثلث ہوتاہے، جہاں وہ كہتے ہیں كہ زمین سے ناظر كی بلندی اتنے قدم پر ہو، یا وہ كہتے ہیں كہ خط افق سے اتنا قدم اوراتنا دقیقہ بلند ہو۔ان مسائل كے ضابطے اورتفریعیں بھی ہم اپنی فن توقیت كی تصانیف میں بخوبی بیان كرچكے ہیں۔توجب مؤذن كا قدم ایك بالشت سے زائد ہوتاہے اوروتر زاویہ میں بالشت بلكہ اس سے بھی كم كا فاصلہ ہے،تو وہاں مؤذن كیسے كھڑا ہوگا، اس جگہ پر تو خطیب ہی بیٹھا ہوگا اور وہاں امام كے دائیں بائیں بھی۔ان دونوں خطوط متوازیہ سے نكلنے والے خطوط سے كوئی ایسا زاویہ نہیں كل سكتا جس پر مؤذن كھڑاہوا(جسكا نام ہم خط مقام ركھ لیتے ہیں)تو لامحالہ خط كتفی سے آگے بڑھ كر طرفین كے خطوط متوازیہ میں كہیں اس مثلث كا قاعدہ تسلیم كرنا پڑے گا جس كے زایوں كے اند رمؤذن كھڑاہو۔اسی كا اشارہ قہستانی كے اس قول سے بھی ہوتاہے كہ وہ فرماتے ہیں: "زاویہ قائمہ حادہ یا منفرجہ جو ان دونوں خطوط سے پیداہوتے ہیں جو امام كی جانب یمین اورشمال سے نكلے ہیں۔" دونوں طرف كے یہ دونوں خطوط تو غیر محدودہیں۔ان كی تحدید تو محل ومقام كے تقاضے كے موافق ہوگی،جسے ہم دلائل قاہرہ ونصوص باہرہ سے ثٓابت كر آئے ہیں كہ وہ مسجد سے خارج مسجد كے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع