30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نمبر۳ كی توضیح اورثبوت

|
والامر فی المنفرجۃ اظھر سواء كانت متساویۃ الساقین مثل ا ی ب،او مختلفتھما مثل ا ح ب لانھا تقع داخل القوس فالعمود النازل منھا علی القطران مربالمركز مثل ی ء كان جزءً من نصف القطرح ء وان لم یمربہ مثل ح ط۔ |
زاویہ منفرجہ میں اس خط نازل كا نصف قطرہ سے چھوٹا ہونا زیادہ واضح ہے زاویہ منفرجہ متساوی الساقین جیسے مثلث ا ی ب یا مختلف الساقین جیسے مثلث ا ح ب كیونكہ یہ زاویہ بہر تقدیر قوس كے اندر ہوگا،تو اس زاویہ سے جو عمود بھی قطر پر نازل ہوگا یا تو مثلث ا ی ب كی طرح مركز سے ہوكر گزرے گا جیسے خط ء ی تو وہ یقینًا نصف قطر یعنی خط ء ح كا جزء ہوگا(اوراگر زاویہ مختلف الساقین میں ہوگا جیسے ح ط كہ یہ مركز سے ہوكر نہیں گزرتا) |

|
اخرجناح الٰی ء ك كان ح ء الاصغر من ء ك نصف القطر لكونہ وترالقائمۃ اكبر من ح ط وترالحادۃ بحكم ر ط من الاولٰی وذٰلك ما اردناہ۔ الخامسۃ:كل خط اقیم علٰی نصف عمود غیر محمد ودواخرج |
تو ہم ح كو ء ك كی طرف لے چلیں گے(اورء ك نصف قطر ہے)توء ح،ء ك سے چھوٹاہوگا كیونكہ ء ك زاویہ قائمہ كا وتر ہے جس كو ح ط سے بڑا ہونا چاہیے جو ازاویہ حادہ كا وتر ہے مقالۂ اولٰی كی شكل ۱۸ كی روسے۔اوریہی ہمارا مدعا ہے۔ مقدمہ خامسہ:ہر وہ خط جس كے نصف پر كوئی عمود قائم كیا جائے،اورپھر اس خط كے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع