30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فبرابعۃ الاولٰی یتساوی ا ہ ہ ب ہف فلكن المركز ء وقلتنا ہ ء نصف القطر فلو كان ہ ر مساویالہ تساوت بلامامونی زایتا ر ء فاجتمع فی مثلث قائمتان۔
وان كان ہ ر اكبر من ہ ء كانت ء الموترۃ بالاكبر اكبر من ر القائمۃ الموترۃ بالاسغر بحكم بح من الاولٰی فاجتمع فی مثلث قائمۃ ومنفرجۃ فلاجرم ان ہ ر اصغر من اء۔ |
د وقائمے)پس مقالہ اولٰی كی شكل رابع سے لازم آئے گا كہ ا ہ او رہ ب دونوں ساقیں مساوی ہوجائیں گے اوریہ خلاف مفرض ہوگا(كہ ہم نے زاویہ قائمہ مختلف الساقین مانا تھا اوریہاں دونوں كا مساوی ہونا لازم آیا)جب ر كو مركز ماننے پر خلاف مفروض لازم آیا،تو مان لیجئے كہ مركز دراصل ء ہے اورہ كو ملا كر نصف قطر كرلیجئے۔اس صورت میں ہر ر ہ ء كے برابر ہوتو (مقالہ اولٰی كی پانچویں شكل كے لحاظ سے زاویہ ر اورزایہ ء دونوں برابر ہوں گے تو ایك مثلث كے دو زاویے قائمہ ہو گئے(اوریہ محال ہے تو لامحالہ ہ ر،ہ ء دونوں ساقیں برابر نہیں۔) ایك صورت یہ بھی ہے كہ ہ ر كو ہ ء سے بڑا مانا جائے و مقالہ اولٰی كی اٹھارھویں شكل سے لازم آئے گا كہ زایہ ء جس كے وتر ہ ر كو ہم نے ہ ء سے بڑا مانا ہے،چھوٹے وتر والے زایویہ قائمہ یعنی ر سے بڑا ہوجائے۔اورزاویہ قائمہ سے جو زاویہ بڑا ہوگا وہ منفرجہ ہی ہوگا۔تو لازم آئے گا كہ ایك مثلث میں زاویہ قائمہ اورزاویہ منفرجہ دونوں جمع ہوگئے اوریہ بھی محال ہے اوہ ر كے نصف قطر سے بڑے اوربرابر ہونے كی صورتیں محال ہو گئیں،تو لا محالہ ہ ر،ہ ء نصف قطر ہ سے چھوٹا ہے اورہم اسی كے مدعی تھے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع