30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وبعبارۃ اخری كل خط نصف ورسمت علٰی منتصفہ ببعد احد طرفیہ قوس وصلت لطرفہ الاٰخر فاذا جعلت ھذاالخط قاعدۃ مثلث واقع الی جھۃ القوس فان وقع راسہ علی نفس القوس فزاویۃ قائمۃ اووراء ھا فحادۃ اودونھا فمنفرجۃ وبالعكس ان كانت زاویۃ الراس قائمۃ تقع علی نفس القوس اوحادۃ فورائہا منفرجۃ فدونھا۔ |
اسی مدعا كا اظہا ربلفظ دیگریوں بھی ہوسكتاہے،كسی بھی خط كی تنصیف كے بعد اس منتصف پر خط كے ایك كنارہ سے دوسرے كنارہ تك قوس بنائی جائے اوریہ خط كسی ایسے مثلث كے قاعدے پر منطبق ہوجائے جو جانب قوس واقع ہے۔تو اگر مثلث كا راس خود اسی قوس پر وقع ہوتو وہ زاویہ قائمہ ہوگا۔ اوراس قوس سے باہر كی طرف واقع ہوتو زاویہ حادہ ہے۔اور قوس كے اندرواقع ہوتو زایہ منفرجہ ہوگا۔اوراسے الٹ كر یوں بھی كہا جاسكتاہے كہ اگرزاویہ راس قائمہ ہوتو نفس قوس پر واقع ہوگا اور حادہ ہوتو قوس كے باہر۔اورمنفرجہ ہوتو قوس كے اندر واقع ہوگا۔ |
توضیح دعوٰی

|
ولیكن اب خطًا رسمًاعلٰی نصفہ ح ببعد اقوس اح ب ثم جعلنا ہ قاعدۃ مثلثات ا ء ب،ار ب،اہ ب فزاویۃ الواقعۃ علی القوس قائمۃ والواقعۃ ورائھا |
ہم نے مان لیا كہ اب ایك خط ہے جس كو مقام ج پر نصف كردیاگیا ہے اوراسی ح كو مركز مانخر اسے شروع كر كے ح سے ہوتی ہوئی ب تك ایك قوس بنائی۔ا ح ب،پھراسی خط ا ب كو تین مثلثوں ا ء ب،ا ر ب،ا ہ ب كا قاعدہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع