30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بین یدی المنبر مجاز عن الخطیب النقل والعقل المصیب اما لنقل فقول العلامۃ المحقق البحر فی البحر"الضمیر فی قولہ بین یدیہ عائد الی الخطیب الجالس،وفی القدوری بین یدی المنیر وھو مجاز اطلاقًا لاسم المحل علی الحال كما فی سراج الوھاج فاطلق اسم المنبرعلی الخطیب [1]اھ
"واماالعقل فلان المنبر لو كان عریضا یسع رجالا فقام الاما علی احدطرفیہ والمؤذن بحذاء طرفہ الاخر فقد اخطأ السنۃ لانہ لیس بین یدی المنبر مع انہ بین یدی المنبرلاشك فعلم ان السنۃ ھو كونہ بین یدی الخطیب دون المنبراذالعود غیر مقصودوقد مرت السنون لم یكن منبر فما كان یواجہ الاالامام امام الانام علہ وعلٰی اٰلہ افضل الصلٰوۃ والسلام ھذاظاھر جدا۔ |
بین یدی المنبر میں لفظ منبر بول كر مجازًاخطیب مراد لیاگیا ہے۔یہ نقلی دلیل سے بھی ثابت ہے اورعقلی دلیل سے بھی۔ دلیل نقلی صاحب بحرالرائق كا یہ قول ہے جو انہوں نے بحر میں فرمایا:"قول بین یدہ میں ضمیر خطیب كی طرف لوٹ رہی ہے جو منبر پر بیٹھاہو۔"قدوری میں ہے:"لفظ بین یدی المنبر میں منبر سے مجازًاخطیب مراد ہے كہ اكثر محل بول كر حال مراد ہوتاہے۔"ایسا ہی سراج الوہاج میں بھی ہے كہ "منبر كا لفظ بول كر خطیب مراد ہے۔" عقلی دلیل یہ ہے كہ منبر اگراتنا چوڑا ہوكہ اس كے عرض میں كئی آدمی كھڑے ہوسكتے ہوں،تو اگر امام منبر كی ایك طرف بیٹھا اورمؤذن دوسری طرف سامنےكھڑا ہوا تو اس نے سنت ترك كردی كیونكہ اس صورت میں وہ امام كے مقابل نہیں منبر كے سامنے البتہ ہے۔تو معلوم ہوا كہ سنت یہی ہے كہ مؤذن خطیب كے سامنے ہو منبر كے سامنے نہیں،اس لئے كہ توجہ كا مقصودلكڑی نہیں ہے۔مسجد نبوی شریف میں كئی سال تك منبر تھا ہی نہیں تو محالہ مؤذن حضور امام الائمہ سید الانام رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم كی طرف ہی رخ كرتا تھا، یہ امر بالكل ظاہر ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع