30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الٰی زمن عثمان رضی الله تعالٰی عنہ وجعلہ بعداذا نا فالٰی ھذا یشیر بقولہ"فیكون اصل اعلام عمر وعثمٰن "ولما كان یرد علیہ ان علی تطبیقكم ھذا یكون تقدیم الاعلام علی الاذان ثابتا من زمن الرسالۃ فكیف یقول الفاروق نحن ابتدعناہ لكثرۃ المسلمین۔ حاول ان یرفو ھذاالخرق فقال"ولعلہ ترك ایام الصدیق اواواخر زمنہ علیہ الصلٰوۃ والسلام ایضا فلھذااسماہ عمر بدعۃ وتسمیۃ تجدیدالسنۃ بدعۃ علی منوال ما قال فی التراویح نعمت البدعۃ ھی [1]اھ۔"
اقول:ولا یخفٰی علیك ان الشیخ انما یبدی ھذہ الاشیاء |
علیہ وسلم كی جس اذان كے بارے میں بین یدی الخطیب یا علٰی باب المسجد یا علی المنار ہونے كی بات كہی جارہی ہے وہ در اصل اذان نہ تھی نماز جمعہ كا اعلان تھا۔اوریہی حضرات فاروق وعثمان كے اعلان بعدہ الاذان كی اصل ہے،لیكن حضرت علی قاری كی اس تطبیق پربھی اعتراض واردہوتاہے كہ اس توجیہ سے معلوم ہوتاہے كہ اذان سے پہلے اعلان رواج عہد رسالت سے ہی تھا،تو پھر حضرت عمر رضی الله تعالٰی عنہ نے یہ اعلان كرا كے یہ كیسے كہا كہ ہم نے اس كی ایجاد كی!ملاعلی قاری علیہ الرحمہ نے اس شبہ كا جواب اس طرح دیا كہ"یہ اعلان حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم كے آخری عہد اورحضرت صدیق رضی الله تعالٰی عنہ كے پورے زمانے میں موقوف ہوگیا رہا ہوگا۔ حضرت عمر نے اس كی تجدید كی اوراس كا نام ایجاد ركھا ہوگا، جیسا كہ تروایح كی جماعت كو بھی آپ نے البدعۃ كہا تھا حالانكہ خود حضورصلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے اپنی حیات ظاہری میں دوتین یوم تراویح كی جماعت قائم فرمائی تھی" اقول:(میں كہتاہوں)ملا علی قاری رحمۃ الله علیہ نے اپنی تمام توجیہات كو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع