30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ومذھب ائمتہ الكرام فحاول التوفیق بما یرحم الٰی ما ھو مذھبہ بالتحقیق،فقال "لكن یمكن الجمع بین القولین بان الذی استقربی اٰخر الامر ھو الذی كان بین یدیہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم [1]الخ،ای لم یكن الاذان بین یدیہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فی اول الامر بل علی الباب الشرقی اوالغربی(وھذا ما فی حدیث ابن اسحٰق وكلام مالك)ثم استقراالامر خیرًاعلٰی كونہ بین یدیہ(وھومراد المنازعین فیہ)" اقول:انت تعلیم انہ مبنی علی ماشبہ لہ وتوجیہ كلام مالك بما ذكرتوجیہ بما لایرضی بہ فقد اسلفنا عنہ انہ رضی الله تعالٰی عنہ نھی عن الاذان بین ید الامام۔ ثم حاول التطبیق بوجہ اٰخر بعیدسحیق فقال و بان اذان بلال علٰی باب المسجدكان اعلامافیكون اصل اعلام عمر وعثمٰن [2]اھ۔ |
ان دونوں قولوں میں یوں تطبیق دی كہ ممكن ہے ابتداء میں مسجد شریف كے باب شرقی یا غربی پر اذان ہوتی رہی ہو،جیسا كہ روایت ابن اسحٰق یا كلام مالك میں ہے لیكن بعد میں معاملہ سامنے پر ہی مستقل ہوگیا اوریہی مراد كلام منازعین كی بھی ہے۔
اقول:(میں كہتاہوں)ملا علی قاری كی یہ بات تو ایك اشتباہ پرمبنی ہے،پھر یہ توجیہ امام مالك رضی الله عنہ كے مذہب كے بھی موافق نہیں كہ وہ تو مطلقااذان بین یدیہ كے منكر ہیں(پھر ایسی غیر مفید اوربے بنیادتاویل سے كیا حاصل) ملا علی قاری رحمۃ الله علیہ نے ایك اوربعید تاویل بھی كی ہے وہ كہتے ہیں ہوسكتاہے كہ عہد رسالت میں حضرت بلال رضی الله تعالٰی عنہ جو اذان باب مسجد پر دیتے تھے وہ اذان نہ ہو صرف اعلان رہا ہو،اوریہی حضرت عمروعثمان رضی الله تعالٰی عنہما كے اعلان كی اصل ہواھ۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع