30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والله یفعل مایرید ولما سبق الٰی خاطرہ ان القائلین بكونہ بین یدیہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ینازعون حدیث ابن اسحاق ولا تمكن المنازعۃ الا اذا ارید بباب المسجدفی حدیثہٖ باب لیس وجاہ المنبر خطر ببالہ ان المراد باب الشرقی او الغربی وایدھٰذا الخطور انہ لم یكن فی زمنہ رحمہ الله تعالٰی بل منذنحو مائۃ وخمسین سنۃ من قبلہ باب شمالی فی المسجد الكریم كان الناس بنوا ھنالك دورھم كما ذكرہ السید العلامۃ السمھودی رحمہ الله تعالٰی فحق لہ ان یدخل حدیث ابن اسحٰق فیما ینازعہ القائلون بكونہ بین یدیہ فكرعلیھم بالردبانہ لامستدلھم فی انكار علی الباب ولا یقتضی حدیث البخاری شیئا من ذٰلك نقوی الی ھنا امرجمہور المالكیۃ وتم الرد علی المنازعین لانعدام مایثبت كونہ بین یدیہ،لكن كان ھذاھو مذھبہ |
نہیں دیكھا،اورجو الله تعالٰی چاہتاہے وہی ہوتاہے،اورجب ان كےدل میں یہ بات جم گئی كہ اذان بین یدیہ كے قائل مالكی حضرات حدیث ابن اسحٰق كا رد كرتے ہیں۔اوراصحاب بین یدیہ كے قول اورروایت ابن اسحاق میں جبھی منازعت ہوگی كہ ان كی حدیث میں آتے ہوئے لفظ باب مسجدسے مراد مسجد نبوی كا ایسا دروزہ ہوجو منبر كے سمانے نہ ہوتو ان كے دل میں یہ خطرہ گزراكہ حدیث ابن اسحٰق میںمذكور باب مسجد سے مراد یاتو مسجد كا مشرقی دروازہ ہے یا مغربی،اوراس كی مزید تائیداس امر سے ہوئی كہ انكے زمانہ میں بلكہ ان كے عہد سے ڈیڑھ سو سال قبل سے ہی مسجد شریف كا شمالی دروازہ جو منبر كے بالمقابل تھا ختم ہوگیا تھا اورلوگوں نے وہاں اپنےگھر بنالئے تھے جیسا كہ علامہ سمہودی نے تحریر فرمایاہے،تو انہیں یہی معلوم ہوا كہ بین یدہ اورباب المسجددو مختلف سمتوں میں ہیں اسی لئے انہوں نے اصحاب بین یدیہ كو روایت ابن اسحاق كا مخالف سمجھا۔پھر پلٹ كر اصحاب"بین یدیہ"كا لفظ ہے ہی نہیں پھر"بین یدیہ"روایت بخاری كا مقتضٰی كیونكر ہوا،اس لئے آپ حضرات كا علی الباب والی روایت كو رد كرنا صحیح نہیں ہے،لیكن خود احناف اذان"بین یدیہ"كے قائل ہیں،اورملا علی قاری رحمۃ الله علیہ بھی حنفی ہی ہیں،اس لئے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع