30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ذكر اسم البخاری ایذانًابان اصل الحدیث عندہ و اوصحتہ روایۃ ابن اسحٰق كما ھو صریح لفظ الاستذكار وكیف یرد علی حدیث ابن اسحٰق بان الاذان انما كان بین یدیہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم مع ان حدیث ابن اسحاق ھو المصرح بھٰذا،افیرد علی الشیئ بنفس الشیئ ولكن الامر انہ كتب ھذا المحل معتمدا علی ما فی الصدور ولو راجع كلام المناز عین لعلم انھم لایقولون ان حدیث البخاری یقضی بالرد علی جمہورھم والرأی انھم لاینازعون حدیث ابن اسحٰق بل بلہ یستشھدون وبہ علی جمہورھم یردون ولابعد ان كونہ بین یدیہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم مصرح بہ فی حدیث ابن اسحٰق نفسہٖ بل لانعلم التصریح بہ الافیہ فكیف یرد علیہ بمفادنفسہٖ ولكن نسئ ولم یتفق لہ مراجعۃ الحدیث ولامراجعۃ كلام المنازعین |
مذكورہے)بخاری كا نام تویہ بتانے كے لئے لیا گیا ہے كہ روایت ابن اسحٰق كی اصل بخاری میں ہے،بخاری نے یہ حدیث مختصرروایت كی اورابن اسحٰق كی سند سے یہی حدیث ابوداؤد نے مفصل تخریج كی ہے،اوریہی استذكار كی عبارت سے ہو یداہے۔(ایسی صورت میں)بھلاحدیث ابن اسحٰق پر اس بات سےكیسے رد ہوسكتی ہے كہ "اذان حضورصلی الله تعالٰی علیہ وسلم كے سامنے ہوتی تھی"خود حدیث ابن اسحٰق بھی تو اسی امر كو ثابت كر رہی ہے كہ یہ اذان حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم كے سامنے ہوتی تھی،تو ایك بات كو خود اسی سے رد كرنے كے كیا معنٰی!ایسا معلوم ہوتا ہے كہ حضرت ملا علی قاری رحمۃ الله تعالٰی علیہ نے اس مقام كو اپنی یادداشت پر بھروسا كر كے لكھا،اگر منازعت كرنے والوں كےكلام كو پھر دیكھ لیا ہوتا تو انہیں یہ معلوم ہوجاتاكہ منازعین یہ نہیں كہتے كہ حدیث بخاری میں جمہورائمہ مالكیہ كا رد ہے حقیقت تو یہ ہے كہ وہ لوگ حدیث ابن اسحاق كا بھی رد نہیں كرتے،وہ تو اس حدیث كو اپنے جمہور كی رائے كے خلاف سند میں پیش كرتے ہیں،اوراس میں كوئی بعد بھی نہیں،كیونكہ اذان كے خطیب كے سامنے وہنے كی تصریح صرف حدیث ابن اسحٰق میں ہے، تو جوبات خود حدیث ابن اسحٰق ہے،اسی سے اس حدیث كو رد كیسے كیاجاسكتاہے۔لیكن حضرت علی قاری بھول گئے اورخود حدیث كلام منازعین كو بھی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع