30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اومفتحواباب الضلالۃ ؟ قالووالله یا ااعبدالرحمٰن ما اردنا الا الخیر قال وكم من مرید الخیرات یصیبہ[1]۔ (الحدیث) وقد اجبنا عنہ فی المجلد الحادی عشر من فتاوی ناباجوبۃ شافیۃ،لكن این ذھب ھذا منھم ھھنا ام یدخلون عبدالله بن مسعود ایضًافی وعید من اظلم نعم لاغروفقد سبوا الله وسبوا رسولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم"وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴿۲۲۷﴾٪"[2]۔ نفحہ۲۰:قدمنا فی النفحۃ الثامنۃ العودیۃ ان امام دارالھجرۃ عالم المدینۃ سیدنا مالكا رضی الله تعالٰی عنہ وجماھیراصحابہ ذھوا الٰی ان جعل ھٰذاالاذان بین یدی الامام بدعۃ مكروھۃ،وانما السنۃ فیہ ایضا المنارۃ وھذا مابلغھم ولكن نطق حدیث ابی داؤدالصحیح ان فعلہ بین یدی |
ہدایت پر ہے یا تم لوگ گمراہی كا دروازہ كھول رہے ہو؟ان لوگوں نے عرض كی یا ابا عبدالرحمٰن!اپنے اس فعل سے ہم لوگ بھلائی كے طلبگار تھے آپ نے فرمایا كتنے بھلائی كے طالب اس تك پہنچتے ہیں۔ ہم نے اپنے فتاوٰی كی گیارہویں جلد میں اس كے متعدد بھرپور جواب دئے ہیں لیكن خود ان حضرات سے ان كی یہ محبوب دلیل كہاں رہ گئی،یا پھر یہ لوگ حضرت عبدالله بن مسعود رضی الله تعالٰی عنہ كو بھی وعید"من اظلم"میں شامل كرتے ہیں اوران سے كچھ بعید بھی نہیں یہ لوگ تو الله ورسول جل جلالہ وصلی الله تعالٰی علیہ وسلم كو گالیاں دے چكے ہیں تو قیامت میں انہیں پتہ چلے گا كہ كہاں پلٹائے گئے ہیں۔ نفحہ۲۰:ہم شمامہ عودیہ كے آٹھویں نفحہ میں ذكر كر آئے ہیں كہ امام دارالہجرۃ عالم مدینہ سیدنا امام مالك رضی الله تعالٰی عنہ اوران كے اكثر اصحاب نے اس اذان كو بدعت مكروہہ قراردیا ہے،اوراپنے علم كے اعتبار سے اس اذان كا مقام مسنون منارہ كو قراردیتے ہیں،مگر ابوداؤدكی صحیح حدیث سے ثابت ہے كہ اس اذان كا خطیب كے سامنے ہونا مسنون ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع