30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ماكان اھل مكۃ سفہاء كھٰذا لیبنواقبۃ فی نفس المطاف ویضیقوا المحل علی اھل الطواف نعوذبالله من الجھل والاعتساف۔ نفحہ۱۹:ثم تمسك بقولہ تعالٰی:" وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنۡ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللہِ اَنۡ یُّذْکَرَ فِیۡہَا اسْمُہٗ"[1]۔وقولہ تعالٰی: " وَّ مَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیۡہَا اسْمُ اللہِ کَثِیۡرًا ؕ"[2]۔ وقولہ تعالٰی: "فِیۡ بُیُوۡتٍ اَذِنَ اللہُ اَنۡ تُرْفَعَ وَ یُذْکَرَ فِیۡہَا اسْمُہٗ ۙ"[3]۔ وفی حدیث الصحیحین عــــــہ ان ھذہ المساجد لا تصلح لشیئ من ھذا البول والقذ وانما ھی لذكرا لله والصلٰوۃ وقراء ۃ القرآن[4]۔ اقول:اولا قضینا الوترعن كشف ھذہ الشبھۃ فی النفحۃ الاولٰی القراٰنیۃ،وبیناان الاذان لیس ذكرًا خالصًا[5]۔ |
نفحہ۱۹:مسجد كے اند راذان جائز ہونے پر اس آیت سے بھی مخالفین نے استدلال كیاہے"اس سے بڑاظالم كون ہے جو مسجد میں الله كا نام لینے سے منع كرے"اورآیت مباركہ "اورمسجد جس میں الله تعالٰی كا ذكر بہت ہوتاہے"اورآیت گرامی"ان گھروں كو الله تعالٰی نے بلند كرنے كا اوران میں اپنا نام لینے كا حكم دیا" اوربقول صاحب مشكوٰۃ صحیحین كی ایك حدیث،ورنہ مخرجین نے اسے صرف مسلم كی حدیث قراردیاہے "یہ مسجدیں پیشاب اورگندگی كے لئے نہیں،یہ تو ذكر الٰہی،نماز اور تلاوت قرآن كے لئے ہیں۔" اقول:(میں كہتاہوں)اولا ہم نفحہ قرآنیہ میں اس شبہ كو بالكلیہ حل كرچكے ہیں كہ اذان محض ذكر الٰہی ہی نہیں ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع