30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یدعیہ ھذا الوھابی من انہ اذن علیہ فی جوف المسجد لم یقصہ مسلم ولاكتابی ولا كافر سواہ فاحتجاجہ بہ لیس الااحتجاجابھواہ۔ وتاسعًاان تعجب فعجب قولہ ان المقام الاٰن ایضًا داخل المطاف وھذاشیئ یردہ العیان ویشھد بكذبہ كل من رزق حج البیت الحرام۔ وعاشرًا اعجب من الاحتجاج علیہ بانہ مفروش بالرخام وكان فی بالہ ان كال مافرش فیہ الرخام صار المطاف الذی كان قدرالمسجد الحرام علٰی عہد رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فلیدخل ماحول زمزم ایضًافیہ ولو كان فرش بعض الملوك سائر المسجد الشریف ورواقاتہ بالرخام،لحكم ھذا الجاھل بان المسجد كان الی الرواقات علٰی عہد رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم واذا بلغ الجھل الٰی ھذا النصاب سقط الخطاب وانما المطاف ھی دائرۃ الرخام حول البیت الحرام وعلٰی حرفہا باب السلام ولا شك ان قبۃ المقام خارجۃ عنہاو |
جو ں كا توتسلیم كرلیا جائے ورنہ تفصیل گزر چكی كہ مسجدحرام كے اندر اعلان حج كا تذكرہ نہ كسی مسلمان سے مروی نہ كتابی سے نہ كافر سے،اندرون مسجد كی بات تو صرف ان وہابی صاحب كی ہے،تو وہ اپنے دعوٰی میں اپنی خواہش نفس سے ہی استدلال كرتے ہیں۔ تاسعًا قابل تعجب بات تو یہ ہے كہ"مقام ابراہیم اب بھی مطاف كے اندر ہے "یہ تو مشاہدہ كے خلاف ہے جس كی شہادت ہر حاجی دے سكتاہے۔ عاشرًا اس سے زیادہ حیرت ناك یہ انكشاف ہے كہ جہاں تك سنگ مرمربچھا ہے سب مطاف ہے جہاں تك عہد رسالت مین مسجد تھی،تو زمزم شریف كا ارد گرد ہی عہد رسالت كی مسجد میں شامل ہوگیاكہ وہاں بھی سنگ مر مر بچھا ہے۔اوراگر كسی بادشاہ نے پوری مسجد حرام میں سنگ مرمر بچھا دیا تو وہ بھی عہد رسلات كی مسجد حرام ہوگئی حالانكہ مطاف تو سنگ مرمركا گول دائرہ ہے جو كعبہ مكرہ كے گرداگرد ہے،اورجس كے كنارہ پر باب السلام ہے اوربلاشبہ مقام ابراہیم كا قبہ اس سے باہر ہے،اوراہل مكہ ایسے كم عقل تو نہ تھے كہ نفس مطاف میں قبہ بناتے اورلوگوں پر مطاف كو تنگ كرتے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع