30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
راس الشبھۃ من راسہا وذٰلك لان روایۃ قیامہ علیہ الصلٰوۃ والسلام حین الاذان علی المقام روایۃ اسرائیلیۃ كما رأیت وسیدنا ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہما كا ن یاخذ عنہھم كما ھنا،وروٰی ابن ابی حاتم عن الربیع بن انس قال سمعنا عن ابن عباس انہ حدث عن جال من علماء اھل الكتاب ان موسٰی دعا ربہ[1] (الحدیث) فی قصۃملاقاتہ الخضر علیہھما الصلٰوۃ والسلام واقرھا واخرج ابن ابی شیبۃ عن ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہما قال سئلت كعبًا ما سدرۃ المنتہٰی،قال سدرۃ ینتھی الیہا علم الملٰئكۃ وسئلتہ عن جنۃ الماوٰی فقال جنۃ فیھا طیر خضرترتقی فیھا ارواح الشھداء[2]۔
واخرج ابن جریر عن شمر |
اس طرح ختم كیا جاسكتاہے كہ حضرت خلیل علیہ الصلٰوۃ والسلام كے اعلان حج كے وقت مقام ابراہیم پر كھڑےہونے كی روایت اسرائیلی ہے،اورحضرت ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہما بنی اسرائیل كی روایت قبول فرماتے تھے جیساكہ اس مبحوثہ روایت میں انہوں نے كیا۔ابن ابی حاتم ربیع بن انس سے روایت كرتے ہیں كہ ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہ نے اہل كتاب سے روایت كیا كہ حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا كی۔یہ حضرت موسٰی وخضر علیہم السلام كی ملاقات كے قصہ میں ہے۔مندرجہ ذیل روایت كو ابن ابی شیبہ نے بھی حضرت ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہ سے ہی ثابت ركھا كہ"میں نے حضرت كعب احبار رضی الله تعالٰی عنہ سے سدرۃ المنتہٰی كے بارے میں پوچھا تو انہوں نے كہا كہ انتہائی حد پر ایك بیری كا درخت ہے جہاں تك فرشتوں كا علم پہنچتا ہے۔ اورمیں نے ان سے جنۃ الماوٰی كے بارے میں پوچھا توانہوں نے فرمایا ایساباغ جس میں شہداء كی روحیں سبز پرندوں كے جسم میں رہ كر سیر كرتی ہیں۔" ان جریر نے شمر سے روایت كی كہ حضرت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع