30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مذذاك متصل الكعبۃ كما فی تاریخ القطبی وسائر كتب السیر"وكان ابراھیم علیہ الصلوات والسلام یبنی واسمٰعیل علیہ الصلٰوۃ والسلام ینقل لہ الحجارۃ علی عاتقہٖ فلما ارفع البنیان قرب لہ المقام فكان یقوم علیہ ویبنی [1]اھ۔" فثبت انہ كان حین اذن علیہ للحج متصل جدار الكعبۃ واستمركذٰلك الی زمانہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ثم انتقل عنہ بوجہ قال ولئن سلمنا ان محلہ منذ القدیم حیث ھو الاٰن فالمدعٰی ثابت ایضالانہ الاٰن ایضًا داخل المطاف لان المطاف ھو الموضع المفروش بالرخام ومقام ابراھیم داخل فیہ،فثبت ان التاذین فی المسجد جائز مطلقا ولا كراھۃ فیہ اصلاولیس بدعۃ بل ھو سنۃ ابراھیم علیہ الصلواۃ والتسلیم(انتھٰی)(كلامہ الردی السقیم مترجمًا) اقول: انعم بہٖ من برھان تزری بالھذیان ویغبط بہ المجانین والبلہ والصبیان۔ |
اسی حال پر دیواركعبہ كے پاس ہی پڑا رہا۔ایسا ہی تاریخ قطبی اوربقیہ كتب تاریخ میں تحریرہے كہ"حضرت ابراہیم علیہ السلام دیواریں چنتے تھے اورحضرت اسماعیل علیہ السلام پتھر اٹھا اٹھاكر دیتے تھے،جب دیواریں بلندہوگئیں تو مقام ابراہیم اسی كے قریب لایاگیااورآپ اسی پركھڑے ہوكر دیواریں چنتے تھے۔" اس سے ثابت ہوا كہ اعلان حج كے وقت بھی وہ پتھر وہیں پڑا رہا،حضور صلی الله علیہ وسلم كے زمانہ تك وہیں پڑا رہا،بعد میں كسی مصلحت پر كچھ اوركھسكادیا گیا اوراگریہ مان بھی لیا جائے كہ عہد قدیم سے ہی وہ موجودہ مقام پر ہی ہے تب بھی ہمارا دعوٰی ثابت ہے كہ موجودہ جگہ بھی مطاف میں ہی ہے،اس لئے كہ مطاف وہ جگہ ہے جہاں سنگ مرمر بچھا ہوا ہے،اورمقام ابراہیم اسی میں ہے۔توثابت ہوا كہ اذان داخل مسجد مطلقًاناجائز ہے،اس میں نہ تو كوئی كراہت ہے اورنہ یہ بدعت ہے،یہ تو حضرت ابراھیم علیہ السلام كی سنت ہے۔ اقول: جواب اس كا یہ ہے كہ یہ استدلال ہذیان سے بھی آگے ہے اورپاگلوں،بیوقوفوں اوربچوں كے لئے بھی قابل رشك ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع