30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عن ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہما قال قام ابراھیم خلیل الله علی الحجرفنادٰی"یا ایھا الناس كتب علیكم الحج فاسمع من فی اصلاب الرجال وارحام النساء[1]۔" قال قال ونحن ندی ان ھٰذا الحجر كان حین نادٰی علیہ خلیل الله داخل المطاف قریب جدار الكعبۃ لان علیا القاری قال فی شرح اللباب قال فی البحر" و الذی رجحہ العلماء ان المقام كان فی عھد النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ملصقًابالبیت،قال ابن جماعۃ ھو الصحیح وروی الازرقی ان موضع المقام ھو الذی بہ الیوم فی الجاھلیۃ وعہد النبی صلی ا لله تعالٰی علیہ وسلم وابی بكروعمر رضی الله تعالٰی عنہمااھ۔ والاظھر انہ كان ملصقابالبیت ثم اخر عن مقامہ الحكمۃ ھنالك تقتضی ذٰلك اھ[2]۔" وذالك لان ابراھیم صلوات الله علیہ بنی الكعبۃ قائماعلیہ فاستمر |
اورانہوں نے ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہم سے كہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نےمقام ابراہیم پر كھڑے ہوكرپكارا"اے لوگو!الله تعالٰی نے تم پر حج فرض كیا۔"تو باپوں كی پشتوں سے اورماؤں كے شكموں سے لوگوں نے ان كی آواز سنی۔ مستدلین كا دعوٰی یہ ہے كہ حضرت ابراہیم علیہ السلام كے اعلان كے وقت وہ پتھرمطاف كے اند ردیوار كعبہ كے قریب تھا۔دلیل اس كی یہ ہے كہ ملا علی قاری نے شرح لباب میں فرمایا:بحر میں كہا گیا كہ علماء نے اسی بات كو ترجیح دی ہےكہ مقام ابراہیم عہد رسالت میں كعبہ شریف سے بالكل متصل تھا۔ابن جامعہ نے اسی كو صحیح كہا اورازرقی نے روایت كی كہ مقام ابراہیم جہاں آج ہے وہیں جاہلیت اورعہد رسالت اورزمانہ ابوبكر وعمر رضوان الله علیہما میں تھا۔اورظاہر یہی ہے كہ بیت الله شریف كے متصل ہی تھا،پھر بعد میں كسی حكمت كی وجہ سے موجودہ مقام تك كھسكایا گیا۔
حكمت یہ تھی كہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی پركھڑے ہوكر كعبہ شریف كی تعمیر كی تھی تووہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع