30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الحكمۃ فی التعبیر بالی الارشاد الی ان یؤذن فی حدود المسجدلافیہ لابعیدًامنہ،كما اراہ النازل من السماء علیہ الصلٰوۃ والسلام فكان الحدیث دلیلًا لنا علیھم والجھلۃ یعكسون ومما یشہد لہ ان النازل من السماء اراہ الاذان خارج المسجد اذقام علی حصۃ الجدار فوق السطح وما كان امر عــــــہ النازل الا للتعلیم فلذا امران یخرج من المسجد الٰی حدودہٖ ولله الحمد۔ وثالثًا:لو تنزلنا عن الكل فقد ذكرنا الجواب العام التام الشافی الكافی ان المراد بالمسجداحدالمعنیین الاخیرین،ولله الحمد۔ |
سے اترنے والے فرشتے نے انہیں دكھایاتھا۔پس یہ حدیث تو مخالفین كے خلاف ہماری دلیل ہے،اوروہ اس كو الٹ رہے ہیں۔اوراس بات كی دلیل كہ فرشتے نے انہیں مسجد سے باہر اذان دے كر دكھایاتھا۔یہ ہے كہ وہ مسجدكی چھت پر دیوار كے اوپر كھڑاہوا تھا اوروہ تعلیم كے لئے ہی آیاتھا اس لئے آپ نے حكم دیا كہ اندرون مسجد سے نكل كر مسجد كے كنارے كی طرف جاؤ، فالحمدللہ۔
ثالثًا:اوران سب سے قطع نظركیا جائے توہم ایك تام اورعام جواب دے چكے ہیں كہ ایسی تمام روایتوں میں مسجد سے اس كے دوسرے اورتیسرے معنٰی مراد ہیں۔ |
|
عــــــہ:واذاضم الٰی ذٰلك قول الشرنبلالی فی مراقی الفلاح (یكرہ اذان قاعد)لمخالفۃ صفۃ الملك النازل [1] لكان حدیث الملك علٰی كثرۃ روایاتہ التی قدمنا كثیرًا منھا دلیلابراسہ علی كراھۃ الاذان داخل المسجد فافھم منہ حفظہ ربہ۱۲۔ |
اورجب اس كے ساتھ مراقی الفلاح میں مذكورقول شرنبلالی كو ملایا جائے،یعنی بیٹھ كر اذان دینا مكروہ ہے كیونكہ اس میں اذان كے لئے اترنے والے فرشتے كی صفت كی مخالفت ہے،توفرشتے والی حدیث باوجودان روایات كثیرہ كے جن كو ہم بیان كر چكے ہیں مسجد كے اندر كی كراہیت پر دلیل ہوگی۔پس اس كو سمجھ۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع